ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 347
ہم ہر گز اخفا اور چرب زبانی سے کام نہیں لیتے۔خاں صاحب محمد علی خانصاحب رئیس مالیر کوٹلہ کو تشیع میں غلو تھا حضرت سے ملے تو آپ نے فرمایا۔میاں تبرااور تعزیہ پرستی دو امر تشیع کے ہمیں ناپسند باقی جو چاہو کرو۔اس پر وہ درہم برہم ہوئے مگر آخر جماعت میں داخل ہوگئے۔ہندؤوںمسیحیوں کو تو میں گن نہیں سکتا ہوں کس قدر ہماری جماعت میں آئے۔معلوم ہوتا ہے آپ نے توجہ سے قرآن کریم اور غور سے صحاح اربعہ ونہج البلاغہ شیعوں کی کتابیں اور بخاری، مسلم، موطا سنیوں کی، قاموس الشریعہ مسند بن ربیع، دیبا، خوارج کی کتب کو نہیں پڑھا کبھی کوئی شخص ایسا رسالہ اور کتاب جو تمام جہاں کو پسندیدہ ہو ہر گز نہیں لکھ سکتا۔سید احمد خاں نے بہت مداہنت چاہی آخر جماعت اور گروہ اس وقت بنا سکا جب اس نے اپنے عقائد کا صاف صاف اظہار کردیا۔جو لوگ آج کل ہماے پنجابی ریفارمر ہیں ان سے دریافت فرمائیں آپ نے کس قدر فرمانبردار جماعت بنائی ان کے ماتحت پابند صوم و صلوٰۃ و حج و زکوٰۃ کتنے ہیں۔ہماری جماعت چار لاکھ سے زیادہ ہے اور بلاد افریقہ و یورپ و امریکہ و چین و آسٹریلیا میں ابھی پہنچے ہیں۔انشاء اللہ تعالیٰ برس کے بعد آپ دیکھیں گے کس قدر کامیاب ہوئے۔غزالی، رازی ، ابن سینا، ابن رشد، طوسی اور ان کے طرز کی کوئی جماعت کسی زمانہ میں قائم نہیں ہوئی۔ذرہ آپ ہی فرمائیں۔آپ نے کچھ لوگ دیکھے مہدی جونپوری اور علماء، بلکہ شیخ مبارک ابوالفضل فیضی کو خوب جانتا ہوں۔درمحفل رنداں خیرے نیست کہ نیست اور شرعاً مراتب کمال میں مہدویت و عیسویّت بھی ہے۔برادران مصر کو خط عزیزان ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔انشاء اللہ تعالیٰ اس خط پر عید گزشتہمبارک کا بولنا صحیح ہوگا۔آپ کوابو سعید کو سب مبارک۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ مصر میں صحت وعافیت سے ہوںگے۔مفصّل لکھو کیا تدبیر کی کیا کام ہوا۔کیا ہونے کی امید ہے۔آپ کو کوئی حرج وتکلیف تو نہیں اَللّٰہُ یَحْفِظُکُمْ وَیَعْصِمُکُمْ وَیُغْنِیْکُمْ وَیُوَفِّقُکُمْ لِمَا یَرْضٰی۔والسلام نورالدین ۲۳ رمضان شریف ۳۳ھ