ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 339
بعد نماز خطبہ سب کو سننا چاہیے۔ایک ہی خطبہ ہے بیٹھ کر پھر نہیں اٹھتے۔بچے بھی عید گاہ میں جائیں۔عید کی نماز باجماعت ایک ہے۔کئی جماعتیں نہیں ہونی چاہئیں اور عید کی نماز میں جمع ہونے کے لئے ڈونڈی پیٹنا ثابت نہیں اور نہ نماز کے بعد مصافحہ و معانقہ امر مسنون ہے۔(الفضل جلد ۱ نمبر ۱۲مورخہ ۳؍ستمبر۱۹۱۳ء صفحہ ۱۴) ایک آیت کے معنی کے متعلق ایک خط کا جواب ایک خط بسم اللّٰہ الرّحمٰن الرّحیم نحمدہٗ و نصلّی علٰی رسولہ الکریم بعز عرض حضرت حجۃ اللہ امیرالمؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ۔معروض آنکہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔خاکسار پرسوں صبح کے وقت اپنے دوست قاسم علی خاں کو ترجمہ قرآن کریم پڑھا رہا تھا جب (البقرۃ:۷۳،۷۴) پر پہنچا تو معاً ذہن میں آیا کہ اس آیت کا ترجمہ اس طرح پر بھی ہوسکتا ہے۔جب تم نے مار ڈالا ایک شخص کو پھر لگے تم ایک دوسرے پر دھرنے۔اور اللہ نکالنے والا ہے جو تم چھپاتے تھے۔پس ہم نے کہا بیان کرو اس کو (یعنی کیفیت قتل کو) ساتھ بعض (امور) اس (نفس) کے۔اس طرح اللہ قصاص لیتا ہے۔ کا (یعنی ان مقتولوں کا جن کا قصاص نہ لیا گیا ہو) اب اس ترجمہ کی نسبت چند امور عرض ہیں۔(۱) کے معنی بَیِّنُوْہُ کے لیے جائیں جیسے (یٰس:۱۴) میں لفظ اِضْرِبْ کے معنی بَیِّنْ کے ہیں۔