ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 338 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 338

عید کے احکام ۱۔یہ باتیں عید والے دن مسنون ہیں (۱) مسواک۔(۲)غسل۔(۳) عمدہ کپڑا، سرمہ، تیل، کنگھی۔(۴)خوشبو لگائے۔(۵)سویرے اٹھے۔(۶)عید گاہ میں جائے۔(۷) کچھ کھا کر جائے۔رسول کریم ؐطاق کھجوریں کھا کر تشریف لے جاتے۔(۸) جس راہ سے جائے اس سے دوسری راہ آئے۔(۹)تکبیر کہتا جائے۔اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَر لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔اَلْحَمْدیا کلمہ شہادت بھی (۱۰ )نماز دو رکعت۔(۱۱) مستورات کا بھی عید گاہ میں جانا امر مسنون ہے۔۲۔صدقۃ الفطر۔اس لئے مشروع ہے کہ عید کے دن مساکین کی امداداور روزہ رکھنے میں جو کچھ نقص رہ گئے ہیں۔ان کا جبر ہو۔یہ صدقہ غلام، آزاد، مرد ،عورت، چھوٹے بڑے، غنی فقیرپر ہے۔جو نماز پڑھنے سے پہلے ادا ہوناچاہیے۔جَو اور اس قسم کا غلہ پورا صاع اور گندم نصف صاع۔یعنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک سیرچھ چھٹانک۔۔۔۔۔۔۔غلہ کے عوض نقدی بھی جائز ہے۔۳۔اس نماز میں اذان واقامت نہیں اور اوّل و آخر کوئی اور نماز نہیں۔طریق نمازیوں ہے کہ تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھ باندھ لے ثناء پڑھ کر پھر سات تکبیریں کہیں جائیں۔اللہ اکبر کے ساتھ ہر تکبیر پر ہاتھ کانوں تک لے جا کر کھلے چھوڑے جائیں۔ساتویں تکبیر پر ہاتھ باندھ لیں۔دوسری رکعت میں بھی قبل قرأت پانچ تکبیریں کہیں ماسوائے اس تکبیر کے جو سجدہ سے اٹھتے وقت کہی جاتی ہے۔پانچویں تکبیر پر ہاتھ باندھیں۔آثار سے یہ بھی ثابت ہے کہ پہلی رکعت میں قبل قرأت علاوہ تکبیر تحریمہ تین تکبیر اور دوسری رکعت میں بعد قرأت تین تکبیریں کہے۔اس نما ز میں علی العموم حضور علیہ الصلوٰۃ سَبِّحِ اسْمِ۔ھَلْ اَتَاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ پڑھتے۔