ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 321
ترک کردینے کا کہیں حکم نہیں ( اِلَّا اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ) حضرت موسیٰ کی ماں کو وحی بھیجی کہ اسے دودھ پلا اور جب تو اس پر ڈرے تو اسے سمندر میں ڈال دے اور کچھ خوف نہ کرنا نہ غم کھانا ہم اسے تیری طرف لوٹاکر لائیں گے اور اسے پیغمبروں میں سے بنائیں گے۔(القصص:۸) باوجود اس مؤکد وعدہ کے اور اس تسلی کے کہ نہ خوف کھا اور نہ غم کر اور یہ کہ ہم اسے ضرور تیری طرف لوٹانے والے ہیں بلکہ اسے مرسل بنانے والے ہیں آپ نے اسے یونہی دریا میں نہیں ڈال دیا بلکہ رعایت اسباب کو نہیں چھوڑا اور حکم الٰہی کے مطابق صندوق میں ڈال کر بہایا۔پھر اس کی بہن کو خبرگیری کے لیے ساتھ ساتھ روانہ کیا۔(القصص:۱۲) اور ماں نے کہا موسیٰ کی بہن کو اس کے پیچھے پیچھے چلی جا اور وہ موسیٰؑ کو کنارے سے دیکھتی گئی بحالیکہ ان کو معلوم نہ تھا۔غرض توکل کے یہ معنی ہیں کہ پہلے اس کے مدعا کے جس قدر اسباب ممکن الحصول ہوں ان سے کام لے کر پھر نتیجہ کو خدا پر چھوڑ دے۔دعا کا طریق دعا کرنے کا بھی ایک علم ہے اور یہ اللہ کے فضل ہی سے ملتا ہے۔ہمارے خلیفۃ المسیح فرمایا کرتے ہیں کہ میں نے مکہ میں جب دعا کرنی چاہی تو مجھے خیال گزرا کہ ممکن ہے ایک مطلب کے واسطے جس کا اس وقت میرے قلب میں بڑا جوش ہے دعا کرلوں اور وہ قبول ہوجائے مگر دوسرے وقت میں آخر انسان کمزور ہے کوئی اور مشکل پیش آجائے یا اس مدعا کی ضرورت نہ رہے تو پھر یہ دعا کافی نہ ہوگی اس لیے کوئی جامع دعا کرنی چاہئے۔آپ نے اس کے لیے بھی خدا ہی سے استعانت کی تو آپ نے یوں دعا کی کہ الٰہی میں کمزور اور تیری جناب کا فقیر، مجھے اپنی حاجتوں اور پیش آنے والی ضرورتوں کا علم نہیں پس تو میری یہ دعا قبول