ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 320 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 320

ضرور میرے پ<mark>اس</mark> واپس لاؤ گے بجز <mark>اس</mark> صورت کے کہ کوئی مشکل بن جائے۔جب انہوں نے اپنا عہد دیا تو یعقوب نے کہا اللہ <mark>اس</mark> پر جو ہم وعدہ کرتے ہیں نگہبان ہے۔پھر کہا بیٹو ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ <mark>مختلف</mark> دروازوں سے داخل ہونا اور کہ میں تم کو اللہ کی طرف سے کسی چیز سے نہیں بچا سکتا۔حکومت سب اللہ ہی کی ہے۔<mark>اس</mark>ی پر میں نے توکل کیا اور <mark>اس</mark>ی پر بھروسہ کرنے والے بھروسہ کرتے ہیں۔پھر حضرت نوح علیہ السلام کو طوفان کی خبر دی جاتی ہے اور یہ بھی کہ خدا تمہیں ضرور بچائے گا مگر ساتھ ہی ارشاد ہوتاہے کہ ایک کشتی بنا کر <mark>اس</mark> میں سوار ہوجاؤ (ھود:۲۷،۲۸) اور نوح کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تیری قوم سے ایمان نہیں لائے گا مگر یہی جو لاچکے۔پس رنجیدہ خاطر نہ ہو کفار کی کرتوتوں سے۔اور ہماری نگرانی میں ہمارے حکم کے مطابق کشتی بنا اور ظالموں کی نسبت کوئی سفارش نہ کر وہ ضرور ڈوبنے والے ہیں۔<mark>اس</mark>ی طرح حضرت لوط سے وعدہ کیا اور بشارت دی (العنکبوت:۳۴) نہ ڈر نہ غم کھا ہم تجھے نجات دینے والے ہیں اور تیرے اہل کو مگر ساتھ ہی ارشاد ہوتا ہے (ھود:۸۲) کہ اپنے اہل کو تھوڑی رات سے چپکے نکل جاؤ۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ ہے کہ(المائدۃ:۶۸) اللہ تجھے لوگوں سے محفوظ رکھے گا مگر باوجود <mark>اس</mark> کے آپ جنگ میں دو زرہیں بھی پہن کر نکلتے۔میرا مقصود ان واقعات کے بیان سے یہ ہے کہ شریعت <mark>اس</mark>باب کی رعایت سے مستغنی نہیں کرتی۔چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات نہایت درجہ غناء میں ہے اور آدمی کمزور، <mark>اس</mark> لیے ظاہری <mark>اس</mark>باب کو