ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 320
ضرور میرے پاس واپس لاؤ گے بجز اس صورت کے کہ کوئی مشکل بن جائے۔جب انہوں نے اپنا عہد دیا تو یعقوب نے کہا اللہ اس پر جو ہم وعدہ کرتے ہیں نگہبان ہے۔پھر کہا بیٹو ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا اور کہ میں تم کو اللہ کی طرف سے کسی چیز سے نہیں بچا سکتا۔حکومت سب اللہ ہی کی ہے۔اسی پر میں نے توکل کیا اور اسی پر بھروسہ کرنے والے بھروسہ کرتے ہیں۔پھر حضرت نوح علیہ السلام کو طوفان کی خبر دی جاتی ہے اور یہ بھی کہ خدا تمہیں ضرور بچائے گا مگر ساتھ ہی ارشاد ہوتاہے کہ ایک کشتی بنا کر اس میں سوار ہوجاؤ (ھود:۲۷،۲۸) اور نوح کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تیری قوم سے ایمان نہیں لائے گا مگر یہی جو لاچکے۔پس رنجیدہ خاطر نہ ہو کفار کی کرتوتوں سے۔اور ہماری نگرانی میں ہمارے حکم کے مطابق کشتی بنا اور ظالموں کی نسبت کوئی سفارش نہ کر وہ ضرور ڈوبنے والے ہیں۔اسی طرح حضرت لوط سے وعدہ کیا اور بشارت دی (العنکبوت:۳۴) نہ ڈر نہ غم کھا ہم تجھے نجات دینے والے ہیں اور تیرے اہل کو مگر ساتھ ہی ارشاد ہوتا ہے (ھود:۸۲) کہ اپنے اہل کو تھوڑی رات سے چپکے نکل جاؤ۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ ہے کہ(المائدۃ:۶۸) اللہ تجھے لوگوں سے محفوظ رکھے گا مگر باوجود اس کے آپ جنگ میں دو زرہیں بھی پہن کر نکلتے۔میرا مقصود ان واقعات کے بیان سے یہ ہے کہ شریعت اسباب کی رعایت سے مستغنی نہیں کرتی۔چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات نہایت درجہ غناء میں ہے اور آدمی کمزور، اس لیے ظاہری اسباب کو