ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 319
واقعی احتیاج ہے تو بھی اپنے آپ کو قول معروف کرے کہ کیوں عجز یا کسل سے کام لیتا ہے کیوں نہیں محنت مزدوری کرلیتا۔<mark>اس</mark>ی طرح مسئول کے لیے <mark>اس</mark>تغفار کی صورت یہ ہے کہ پ<mark>اس</mark> تو ہے مگر دینے کو دل نہیں چاہتا <mark>اس</mark> وقت <mark>اس</mark>تغفار کرے کہ جود و سخا کی توفیق اور شرح صدر عطا ہو۔اور اگر پ<mark>اس</mark> ہی کچھ نہیںیا جو کچھ پ<mark>اس</mark> ہے وہ دینے کی <mark>اس</mark>تطاعت نہیں تو <mark>اس</mark>تغفار کرے کہ اللہ تعالیٰ مجھے کشائش دے تا کہ <mark>اس</mark> کی راہ میں دے سکوں۔اور سائل کے لیے بھی دو صورتوں میں <mark>اس</mark>تغفار ہے اگر باوجود مال کے مالک ہونے کے مانگتا ہے تو <mark>اس</mark>تغفار کرے کیوں خواہ مخواہ مانگتا پھرتا ہے۔اور اگر واقع میں محتاج ہے تو <mark>اس</mark>تغفار کرے تا <mark>اس</mark> سوال کی ذلت سے محفوظ رہے۔اور پھر ان صورتوں میں مسئول سائل کے لیے اور سائل مسئول کے لیے <mark>اس</mark>تغفار کرے۔توکل کے کیا معنی آج کل اہل اللہ اور خدا کا ولی <mark>اس</mark>ے سمجھاجاتا ہے جو اوّل درجہ کا سست ہو، کاہل ہو، نہ <mark>اس</mark>باب کو مہیا کرے نہ مہیا شدہ سے کام لے۔حلال طیب رزق محنت سے کما کر کھانے کا عادی نہ ہو بلکہ <mark>اس</mark> بات کا امیدوار کہ کوئی آئے اور لقمہ منہ میں ڈال جائے۔بظاہر ترک کر دینا اور دراصل طلب دنیا کے لیے ہمہ تن آرزو بن کے بیٹھا رہے۔حضرت یعقوب نے اپنے قول و فعل سے توکل کے معنے خوب حل کئے۔پہلے تو بنیامین کے لیے <mark>اس</mark> کے بھائیوں سے مؤکدہ بہ قسم عہد لئے پھر ایک تجویز بتائی <mark>اس</mark> کے بعد فرمایا۔چنانچہ آیات یوں ہیں۔(یوسف:۶۷،۶۸) (ترجمہ)میںتمہارے ساتھ <mark>اس</mark>ے نہیں بھیجوں گا جب تک مجھے اللہ کی طرف سے عہد نہ دو کہ <mark>اس</mark>ے