ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 31
مدرسہ کا حال بھی معلوم کریں۔وہاں چودہ سو میں سے ۱۴ طالب علم مسلمان تھے۔زانی اور لونڈے باز اکثر مسلمان۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر لواطت کا ذکر قرآن مجید میں نہ ہوتا تو مجھے معلوم ہی نہ ہوتا کہ یہ بھی بدکاری ہوتی ہے۔میری فطرت بھی اس بات کو تسلیم نہ کرتی تھی۔ایک دفعہ میں نے جب طب کی کتاب میں مرض اُنبہ کا حال پڑھا تو میں نے نہ مانا کہ ایسے الٹے فعل کا وجود بھی دنیا میں موجود ہے اور کہ یہ کام انسان کرسکتا ہے۔پھر ڈاکہ مارنے والے اکثر یہی لوگ ہیں۔پھر عورتوں کو جائداد کا حصہ دینے سے مسلمانان پنجاب نے انکار کردیا ہے۔یہ کتنا ظلم اور قرآن شریف کی خلاف ورزی ہے۔ہمارے ایک دوست رئیس تھے۔میں اس وقت جوان تھا۔ہمارے ساتھ مذہبی لڑائیاں ہوتی رہیں وہ ہمارا ساتھ دیتے تھے۔ایک اور رئیس ان کے مقابلہ کا تھا۔جب وہ ملا تو اس نے کہا کہ تم نورالدین کے پاس کیا جاتے ہو وہ تو وہابی ہے۔وہ دونوں رئیس ضلع کی کمیٹی میں شریک تھے۔جب وہ دونوں کمیٹی پر چھاؤنی گئے تو ہیڈکلرک کو کہا کہ بندوبست کی مسل لاؤ۔وہ امیر بھی آگیا۔اس کو مسل کا وہ مقام نکال کر دکھایا کہ جہاں پر عورتوں کو حصہ جائداد دینے کا فیصلہ درج تھا۔مہتمم بندوبست نے لڑکیوں کے بارے میں سوال کیا ہوا تھا اور اس امیر نے جواب لکھایا ہوا تھا کہ ہم ان کو حصہ نہیں دیں گے۔پھر مہتمم نے سوال کیا کہ تمہارا رسول تو دیتا تھا مگر اس نے پھر یہی لکھایا کہ ہمارا رواج نہیں ہے۔اس پر اس نے پوچھا کہ رفع یدین کو تم جانے دو یہاں تم نے کیا کیا ہے۔وہ نادم ہوکر لاجواب ہوگیا۔فرمایا۔مسلمانوں میںکسل بہت ہے، خودپسندی اور خود غرضی بہت ہے۔میرے دیکھتے دیکھتے گیارہ ریاستیں برباد ہوگئیں۔سمر۱قند، بخا۲را، یار۳قند، دہلی۴، اود۵ھ، زنجبا۶ر، مصر۷، ٹیونس۸۔اب ایر۹ان بھی جاتی ہے اور عرب کاسارا کنارہ جاتا ہے۔طرابلس۱۰ پر لڑائی ہے، مراکش بلا لڑائی کے لے لیا ہے۔یہ سب کچھ ہورہا ہے مگر مسلمانوں کے کانوں پر جوں نہیں چلتی۔ (الشوریٰ :۳۱)۔