ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 318 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 318

خیرات کے متعلق ہدایتیں تمام کتب الٰہیہ سے زیادہ قرآن مجید میں خیرات کے متعلق ہدایتیں ہیں۔اس میں بتایا گیا ہے کہ کیوں دے؟ ا س لیے کہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بہت عمدہ بدلہ میںدیتا ہے اس کے مال کو بڑھا دیتا ہے۔(البقرۃ:۲۶۲) (۲)(البقرۃ:۲۷۷)۔کیا دے؟ عفو یعنی جو حاجت اصلیہ سے زیادہ ہو، حلال اور طیب مال دے، ردّی چیز نہ ہو۔اِبْتِغَا لِوَجْہِ اللّٰہ دے۔چنانچہ فرماتا ہے۔(ا)(البقرۃ :۲۶۸) (ب)    (البقرۃ:۲۶۸) (ج) (البقرۃ :۲۲۰) (د)(البقرۃ:۲۷۳) کس طرح دے؟ پس جس کو دے احسان نہ جتائے، اسے دکھ نہ دے، ظاہر دے تو بھی اچھا اور اگر پوشیدہ دے تو یہ اس کے حق میں بہتر ارشاد ہوتا ہے۔(۱)(البقرۃ :۲۶۵)۔(۲)       (البقرۃ :۲۷۲) نِعِمَّا اور کے فرق کو غور سے دیکھنا چاہئے۔کس کس کو دے ؟ فقراء اور مساکین کو، ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں روکے گئے ہوں یعنی طلباء علماء جو محض دین کے کاموں میں مصروف ہوں اور اس وجہ سے کوئی کسب نہ کرسکتے ہوں (البقرۃ : ۲۷۴)۔پھر خیرات کے متعلق ایک عام ہدایت ہے کہ (البقرۃ : ۲۶۴)۔مسئول کے لیے قول معروف کی صورت یہ ہے کہ پاس کچھ نہیں دیکھ سکتا تو کوئی بات ہی کہہ دے۔اور اگر پاس ہے مگر ایسی چیز ہے کہ اس وقت جو دینا چاہتا ہے دے نہیں سکتا تو کوئی بات ہی کہہ دے۔اور اگر پاس ایسی چیز ہے کہ اس وقت جو دینا چاہتا ہے دے نہیں سکتا مثلاً پونڈ یا نوٹ جیب میں ہے اور دینا ہے ایک پیسہ تو اس صورت میں بھی نیک بات کہہ دے۔اور سائل کے قول معروف کی یہ صورت ہے کہ اگر باوجود موجود ہونے کے عادتاً مانگتا ہے تو اپنے آپ کو سمجھائے کہ کیوں سوال کرتا پھرتا ہے۔اور اگر