ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 30
فضل و کرم سے مرزا صاحب کے بعد میں نے سلسلہ کی ضروریات کے لیے اپنے چندوں میں پہلے سے زیادتی کردی ہے۔غرض میری خواہش نہ پیر بننے کی تھی اور نہ ہے۔اور اب جو خدا تعالیٰ نے مجھے اس منصب پر مقرر کردیا میں خدا تعالیٰ کے اس فضل کی بے ادبی سمجھتا ہوں اگر اس سے پہلو تہی کرتا۔اس پیر بننے نے میرے مشاغل میں زیادتی کردی۔قوم کے جوانوں ، بچوں، بوڑھوں، عورتوں، لڑکیوں، بیماروں، مقدمات میں مبتلا، زیرباروں اور مختلف قسم کے حاجت مندوں کے لیے مجھے بہت وقت دعاؤں میں صرف کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور میں خدا ہی کی توفیق سے اس فرض کو ادا کرتا ہوں جس طرح پر پیر بننا مشکل ہے اسی طرح مرید بننا بھی سہل نہیں ہے۔بیعت کے معنے بک جانا ہے۔جو شخص بک جاتا ہے اس کا پھر اپنا کچھ نہیں رہتا۔اپنی تمام آرزوؤں اور خواہشوں کو چھوڑ دینا پڑتا ہے اور پیر کی سچی فرمانبرداری حسن ظن کے ساتھ لازمی ہوجاتی ہے۔میں اپنے فرائض کو سمجھتا ہوں مگر تمہیں مرید ہونے سے پہلے سوچ لینا چاہئے کہ تم کس قدر نازک ذمہ واری کے لیے آگے بڑھتے ہو۔بڑی دعائیں اور استخارے کرنے چاہئیں۔پیری مریدی کچھ آسان نہیں ہے اور نہ یہ تر نوالہ ہے جو آسانی سے منہ سے اتر جاوے خدا کے فضل سے ہی بیڑا پار ہوتا ہے۔(الحکم جلد۱۶ نمبر۱۱ مؤرخہ ۲۱؍ مارچ ۱۹۱۲ء صفحہ ۴،۵) ملفوظات حضرت خلیفۃ المسیح (مرقومہ محمد عبداللہ بوتالوی) مسلمانوں کی حالت فرمایا۔مسلمانوں میں آیات الکتاب کاکفر بہت ہے اسی وجہ سے مسلمان تباہہورہے ہیں۔کنجر اور کنچنیاں اور بھڑوے سب مسلمان کہلانے والے ہیں۔جیل میں بھی مسلمان زیادہ جاتے ہیں۔میں نے ایک جیل کی بابت دریافت کیا۔۳۳۵ قیدیوں میں سے ۳۲۲ مسلمان تھے۔ایک نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے۔میں نے کہا کہ چلو ذرا