ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 299 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 299

یہاں بھی یہ تینوں اوصاف آنحضرت ﷺ کے بیان فرمائے ہیں۔(اوّل) (النجم: ۳) جاہل اور بے علم نہیں۔(دوم) تمہارے ساتھیوں میں سے ہے۔دیکھا بھالا ہے۔ایسا نہیں کہ اجنبی ہو اور چند روز سے تمہارے درمیان آکر نیک بن گیا ہو۔(سوم ) ٰ صرف تم کو ہی بہکانے والا نہیں اور نہ شرارتی ہے بلکہ باعمل ہے اور اعمال صالح کرتا ہے۔شق القمر فرمایا۔انسان کو واجب ہے کہ کسی حکیم علیم عاقبت اندیش تجربہ کار سے کوئی بات سنے اگر سمجھ میں آجاوے تو بڑی خوش نصیبی ہے۔اگر سمجھ میں نہ آوے تو بلحاظ کہنے والے کے تجربہ کار اور دانا ہونے کے تکذیب نہ کرے۔بعض علوم اور تجارب صحیحہ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کا عوام کو علم نہیں ہوتا اور وہ انکار کر دیتے ہیں۔ایسا نہیں چاہیے۔دیکھو آج کل کیا کیا عجائبات ظاہر ہورہے ہیں۔ایک شخص یہاں آیا۔صنائع بدائع کا ذکر تھا جیب سے ایک زردی مائل کا غذ نکالا اور کہا کہ میں دنیا میں بہت پھرا ہوں اور کاغذ بنانا سیکھا ہے مگر یہ کاغذ جو بنا ہے اس کی ماہیت کسی کی عقل میں نہیں آسکتی۔وہ کاغذ کٹا ہوا نہ تھا۔اس نے کھولا وہ ۱۸ گز تک چلا گیا۔کہنے لگا کہ میں بڑا استاد ہوں مگر اس کی تہہ کو نہیں پہنچا۔یہ کاغذ میں بطور اعجاز کے لایا ہوں کہ اتنا بڑا لمبا کاغذ کس طرح پانی سے نکالاگیا اور اس سے پہلے مجھ سے ایسے کاغذ کا ذکر کیا جاتا تومیں تسلیم نہ کرسکتا مگر واقعات کا انکار نہیں ہوسکتا۔ہمارے شہر میں ایک شخص میرے معتقد تھے وہ میرے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تھے۔میں نے پوچھا تو انہوں نے مانا کہ ہم نہیں پڑھتے۔وجہ یہ بیان کی کہ تم جو شیطان پر ایمان لاتے ہو یہ ہمارے مذہب میں منع ہے۔میں نے پوچھا کہ میرا شیطانوں پر ایمان تمہیں کس طرح معلوم ہوا۔اس نے کہا کہ ایک دن تم نے لاہور میں تار دیا اسی وقت جواب آگیا۔حالانکہ اگر لاہور پرندہ بھی جاوے یا ہوا بھی اڑ کر جاوے تب بھی اتنی جلدی نہیں پہنچ سکتی تو پھر تجھے تو شیطانوں نے ہی جواب لا کر دیا ہوگا ورنہ اتنی جلدی کب جواب آسکتا ہے۔احمق انسان جب کسی چیز کی حقیقت سے ناواقف ہوتا ہے تو وہ پاک بات کی تردید یا تکذیب