ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 298 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 298

کے طور پر بیان ہوئی ہے اللہ تعالیٰ نے عقلمندوں کو تمثیل سے بہت سمجھایا ہے تمثیلی استدلال کی مثال یہ ہے کہ مثلاً نباتات میں ایک کلیہ مقرر کیا گیا ہے کہ کلُّ حُلُوٍّ حَارٌ یعنی جو میٹھی چیز ہے وہ پھیکی کی نسبت گرم ہوتی ہے۔میٹھا تربوز پھیکے سے گرم ہے۔صرف و نحو والوں نے بھی تمثیلی استدلال سے بہت کام لیا ہے۔مثلاً یہ کہ فاعل کو ضمّہ ہوتا ہے مگر کبھی نہیں بھی ہوتا۔مثلاً کَفٰی بِاللّٰہِ کَسْرَ الزُّجَاجِ الْحَدِیْدِ۔کیونکہ تمثیل کا علم مضبوط نہیں ہوتا۔قرآن شریف نے بھی تمثیلی استدلال کو اختیار کیا ہے مگرقرآن شریک کا استدلال بالاولیٰ ہوتا ہے۔مثلاً اگر ایک موم بتی جلتی ہو اور وہ دو بالشت پر روشنی دیتی ہو تو ایسی دس بتیاں بطریق اولیٰ روشنی دیں گی۔قرآن کا استدلال ایسا ہی ہے۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قرآن میں شرک کے برا ہونے کا ثبوت یہ دیا ہے کہ جو تمہاری پرستش والی چیزیں ہیں وہ تو خادم ہیں نہ کہ مخدوم۔جبکہ وہ مخدوم بھی نہیں ہیں تو معبود کس طرح ہوسکتی ہیں۔اسی طرح نجم سے استدلال کیاگیا۔نجم ستارہ کو کہتے ہیں۔قطب کو بھی کہتے ہیں۔یہ جہاز جو مشرق مغرب کو چلتے ہیں ان کا مدار ستاروں کے اوپر ہے۔قطب نما کا حال سب کو معلوم ہے۔جب قطب کا ستارہ سر پر ہوتا ہے کوئی رہنمائی نہیں کرتا۔اس واسطے فرمایا ہے یعنی جب وہ جھکاؤ پر ہوتا ہے سمت الرأس سے نیچے گرتا ہے تب ہدایت کرتا ہے۔جب دنیا کی منزلوں کے واسطے راہ نما بنائے گئے ہیں تو آخرت کے واسطے بطریق اولیٰ راہ نما ہوں گے۔جس طرح آسمانی ستارہ رہنمائی کرتا ہے اسی طرح روحانی ستارہ بھی رہنمائی کرتا ہے۔پھر راہ بتانے والے میں تین شرطیں ہونی چاہئیں۔(۱) جاہل آدمی راہ بتانے والا نہ ہو واقف کار ہو (کیونکہ جو خود گمراہ ہو وہ دوسروں کی کیا رہبری کرسکتاہے۔ع او خویشتن گم است کرا رہبری کند (۲) کوئی اجنبی آدمی نہ ہو دیکھا بھالا ہو کیونکہ اجنبی دھوکا دیتا ہے۔(۳) باعمل آدمی ہو کیونکہ علم پڑھ کر ہر شرارت کرنے والے سے بھی ہدایت نہیں ہوسکتی۔