ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 297 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 297

دنیوی اور دینی بھی جانتا ہوں۔دنیوی وہ ہے جو اللہ کریم نے قرآن کریم میں فرمایا ہے  (الجاثیۃ : ۱۴)اور اس کا نمونہ موجود ہے یورپ والوں نے جتنی کوشش صحیح کی اتنا ہی نفع اٹھایا۔دینی عمل یوں ہے کہ (المؤمن : ۵۲)۔(۱) آپ استغفار بہت کریں۔(۲) اور خداوند کریم جو کچھ دے اس پر شکر کریں۔(۳) دعا مانگیں یہ سب مجرب عمل ہیں بے خطا ہیں۔مخلص لوگ ہیں رجسٹریشن کی منظوری کے جھگڑے کے سبب جب بدر اخبار شائع نہیں ہوسکا تھا تو ڈاکٹرعباداللہ صاحب امرتسری نے جوآج کل ولایت میں ہیں اور حضرت خواجہ صاحب کی دینی خدمات میں ان کے ممد و معاون ہیں، اپنے ایک خط میں جو انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں لکھا تھا بدر کے نہ بھیجنے کی شکایت کی۔حضرت خلیفۃ المسیح نے اس خط پر مفصلہ ذیل الفاظ لکھ کر دفتر بدر میں بھیجے۔’’عباد اللہ کو آپ نے نہیں بھیجی۔یہ خط اور پرچہ ہائے بدر ان کو بھیج دیں۔یہ بڑے مخلص لوگ ہیں‘‘ (مرقومہ منشی محمد عبداللہ صاحب بوتالوی حال منشی ضلعداری بیری والا) دلیل صداقت نبی کریم ﷺ فرمایا۔(النجم:۲) (ترجمہ۔قسم ہے ستارے کی جب کہ وہ جھکاؤ پر ہو)۔قسم بطور شہادت کے ہوتی ہے۔وائسرائیوں اور بادشاہوں کو بھی قسمیں دی جاتی ہیں۔اس کو اقرار صالحہ کہا جاتا ہے جھوٹی قسمیں کھانے والا ذلیل بے اعتبار ہوجاتا ہے۔زیادہ قسمیں تباہی کا موجب ہوتی ہیں۔یہ ایک مشہور مقولہ ہے۔حضرت رسول اکرم ﷺ کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے بہت قسموں کا اظہار فرمایا ہے تا کہ آنحضرت کی صداقت ظاہرہو۔باوجود اس قدر قسمیں کھانے کے آنحضرت ﷺ نہ لوگوں میں بے اعتبار ہوئے نہ رسوا اور تباہ ہوئے بلکہ دن بدن ترقی ہی ہوتی گئی۔عرب ایک ویران ملک تھا تھوڑے ہی دنوں میں آباد ہوگیا۔قسم کو ایک قسم کا زہر سمجھا جاتا تھا مگر جو چیز دنیا کے لئے زہر تھی وہ آنحضرت ﷺ کے حق میں تریاق ثابت ہوئی۔یہاں بھی آنحضرت ﷺ کی سچائی کے ثبوت میں قسم دی گئی ہے۔یہ قسم تمثیلی استدلال