ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 276 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 276

نہ لانے کی وجہ ضد ہٹ اور اپنی بات کی پچ ہے۔جب ایک دفعہ تکذیب کر بیٹھے تو بس اپنی بات پر اڑ گئے۔یہ عادت بڑی ابتلا میں ڈالنے والی ہے۔مسلمانوں میں تکبر فرمایا۔مسلمانوں میں بڑا تکبر ہے۔ذلیل بھی ہیں، مال بھی پاسن نہیں مگر پھر بھی متکبر ہیں۔حملہ میں پہل نہیں کرنی چاہیے فرمایا۔میری سمجھ میں پہلے ہمیشہ دشمن کووار کرنے کا موقع دینا چاہئے خود پہلے حملہ کرنا نہیں چاہئے، مباحثہ یا جنگ ہو۔دعاکی تاثیر فرمایا۔دعا بڑی بھاری چیز ہے۔ایک حدیث ہے کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کے آستانے پر ایسا گرے کہ بس اس میں محو ہوجائے تو یہ ذرات عالم اس کے قبضہ میں ہوجاتے ہیں۔جب لوہا گرم ہوجاتا ہے یہاں تک کہ آگ اس کو اپنے رنگ میں رنگین کرکے سرخ کردے تو اس کو النّار کہہ سکتے ہیں۔وہ بھی ہر چیز کو آگ ہی کی طرح جلا سکتا ہے۔بعض آدمی بڑے بڑے متبرک مقامات میں دعا کرنے جاتے ہیں۔منہ سے کہتے ہیں یاربّ یاربّمگر ان کا لباس حرام اور ان کا کھانا حرام ہوتا ہے۔تو پھر دعا کیونکر قبول ہو۔والد صاحب کا نقد پیسے نہ دینا فرمایا۔میرا باپ بڑے حوصلہ والا اور امیر آدمی تھا ہم ہر قسم کے میوے اپنے کھانے پر دیکھتے تھے اور ہر جگہ کے انار اور سیب و انگور وغیرہ ہم کھانے کے ساتھ کھاتے تھے مگر وہ ہم کو کبھی نقد پیسے نہیں دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جو شے تم چاہو ہم تم کو منگا کر کھلا دیں گے مگر نقد پیسے نہ دیں گے۔ایک دفعہ میں عید میں جارہا تھا۔میں نے کہا آج تو مجھ کو پیسے دیجئے۔فرمایا کہ جو کچھ کہو گے ہم تم کو منگا دیں گے پیسے کیا کرو گے۔اس وقت انہوں نے مجھ کو آدھ آنہ دیا تھا۔غرض یہ ضروری ہے کہ یہاں بورڈنگ ہائوس میں لڑکوں کے پاس نقد پیسے نہ ہوں اور جس چیز کو لڑکے کہیں مہتمم ان کو منگا کر کھلادیں۔میں نے مرأۃ العروس ساری پڑھی ہے اس میں سے ایک نکتہ سناتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ شرفا کا ذلیل لوگوں سے اور امیروں کا غریبوں سے اور بڑوں کا چھوٹوں سے تعلق اچھا نہیں۔