ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 26 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 26

یتیم کوئی اس کا اپنا رشتہ دار ہو یا کوئی اور ہو۔میرے دوستو! تم میں سے کون ہے جو یہ نہ چاہتا ہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنت میں ہو۔پس تم علیحدہ علیحدہ تو یتیموں کے کفیل بن نہیں سکتے۔اگر تم اس ثواب میں شریک ہونا چاہو تو یتیم فنڈ کے لئے کچھ اپنے ذمہ لگالو خواہ وہ تھوڑی رقم ہی ہو۔یہاں انجمن کی زیر نگرانی تمہاری قوم کے بہت سے یتیم بچے پرورش پارہے ہیں اور بہت سے ہیں جن کی درخواستیں آتی ہیں۔پس جو شخص تم میں سے، جو شخص تم میں سے ان کی پرورش کے لئے چندہ دیتا ہے وہ یتیم کی کفالت کرتا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کے مخلص جلد اس طرف توجہ کرکے یتیم فنڈ کی موجودہ حالت کو ایسا بنانے کی کوشش کریں گے کہ اس کے لئے دوبارہ مجھے کہنے کی ضرورت نہ ہو۔نور الدین (الحکم جلد ۱۶ نمبر ۱۰ مورخہ ۱۴؍مارچ ۱۹۱۲ء صفحہ۲) لغویات سے بچو ایک روز (اٰل عمران:۱۰) پر ایک شخص نے اعتراض کیا کہ کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ ’’اللہ تعالیٰ کسی جنتی کو دوزخ میں ڈال دے۔‘‘ اس پر آپ نے ایک تقریر بڑے جوش سے فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں بامراد ہونے والے مومنوں کی یہ بھی ایک صفت ہے  (المومنون:۴) جو لوگ لغو سے اعراض کرتے ہیں۔لوگوں نے قرآن مجید کی غرض کچھ اور سمجھی ہو مگر میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ’’قرآن مجید کے پڑھنے سے غرض عمل ہے۔‘‘ اس واسطے لغو باتوں میں کبھی وقت ضائع نہ کرو۔ان لغو امور کی میں مختصر سی مثال سناتا ہوں۔مثلاً آدم کی پیدائش پر بحث شروع کردی کہ آدم حوا سے پیدا ہوا یا حوا آدم سے؟ وہ کہاں پیدا ہوا؟ جنت کہاں تھا؟ وہاں سے نکل کر کہاں گرا۔دانہ کس چیز کا تھا یا نوح کی کشتی کس درخت کی لکڑی تھی وغیرہ۔یہ تمام امور ایسے ہیں کہ ان کو عمل سے کوئی تعلق نہیں۔پس میں تم کو نصیحت کرتا ہوں اس کو ہمیشہ یاد رکھو کہ کبھی اس قسم