ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 261
مکتوب حضرت امیر المؤمنین مکرم معظم!السلام علیکم گرچہ خوردیم نسبتے است بزرگ۔یہ خاکسار قریشی فاروقی ہے۔میرا سلسلۂ نسب حضرت عمر سے پھر حضرت شعیب سے ملتا ہے جو کابل سے پشاور اور وہاں سے لاہور پھر قصور پھر کھتے وال علاقہ بہاولپور میںمقیم ہوئے۔قاضی عبدالرحمن شاطر مدراسی، بابا نارنجی مقیم یاغستان اسی سلسلہ کے ممتاز ہیں۔حضرت فرید شکر رحمۃ اللہ کے والد اور میرے جدامجد دونوں حقیقی بھائی تھے۔یہ قصہ طویل ہے۔بھیرہ ضلع شاہ پور میرا وطن تھا وہاں صدیقی قریشیوں کا ایک بڑا محلہ ہے۔نورالدین (الحکم جلد۱۶ نمبر ۳۸ مؤرخہ ۱۴؍ دسمبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۴) ۱۔خواب اور ان کی تعبیریں لکھنے کی تحریک حضرت امیرالمومنینؓ نے ہفتہ زیر اشاعت میں فرمایا کہ سورہ یوسف پر تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ علم الرؤیا بھی ایک بڑا علم ہے۔خوابیں کافر کی بھی ہوتی ہیں، مومن کی بھی۔یہ علم اللہ تعالیٰ اپنے بعض انبیاء کو دیتا ہے اور ان سے ورثہ میں علماء امت محمدیہ کو بھی پہنچا ہے۔چنانچہ پہلے مسلمانوں نے اس فن پر بہت عمدہ کتابیں لکھی ہیں۔کامل التعبیر اور تعطیرالانام مجھے بہت پسند ہیں۔آج کل کے نئی روشنی کے تعلیم یافتہ اور جنٹلمین تو خوابوں کو پریشان خیالات کا مجموعہ سمجھتے ہیں مگر ہمیں ایسی بے ادبی نہیں کرنی چاہئے۔خوابیں تو نبوت کا جزو ہیں۔ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ جو جو خواب ان کو آئے وہ مختصر طور پر ان کو لکھ لیا کریں اور پھر جو تعبیر اللہ تعالیٰ سمجھائے یا دکھائے اسے بھی نوٹ کرلیا کریں۔اس طرح پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس فن میں ایک ضخیم کتاب تیار ہوسکے گی۔ہم سے پہلوں نے تو اپنا فرض ادا کردیا لیکن اب کئی چیزیں ایسی نکل آئی ہیں جو پہلے موجود نہ تھیں اس لیے ان کی تعبیر ان کتابوں میں نظر نہیں آتی۔مثلاً خواب میں کوئی موٹر کار دیکھے یا ہوائی جہاز یا ایسی اور ایجادیں، ایسے خوابوں کی تعبیریں تجارب کی بنا پر سمجھ میں آجاتی ہیں۔