ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 260 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 260

الٰہی وعدے ہیں جن میں صرف تمہاری غفلتوں ، سستیہے۔تمہیں چاہیے کہ اپنی حالتوں کو سنوارو۔ورنہ پھر وہی حال ہوگا جو حضرت موسیٰ کی قوم کا ہوا۔انہوں نے ایک حکم کو نہ مانا۔خدا نے ان ممالک کی فتح کو چالیس سال تعویق میں ڈال دیا۔یہاں تک کہ حضرت موسیٰ بھی اس اثنا میں فوت ہوگئے۔غرض قوم کی بداعمالی کا خمیازہ نبی کو بھی اٹھانا پڑتا ہے مجھے پورا یقین ہے کہ اگر وہ حضرت موسیٰ کی بات کو مان لیتے تو ضرور ضرور وہ علاقہ فتح ہوجاتا۔میں تو تمہیں سنارہا ہوں۔دنیا پرستی چھوڑدو تا وہ وعدے پورے ہوں جو خدا نے اپنے مسیح سے کئے اور یہ بھی یاد رکھو کہ جو اس لئے نبی کی مخالفت کرتا ہے کہ دنیا حاصل کرے وہ ضرور دنیا سے بے نصیب رہتا ہے۔دیکھو انصار میں سے کسی نے حضرت نبی کریم ﷺ کے مال غنیمت کی تقسیم پر اعتراض کیا اور کہا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور اونٹ وغیرہ کسی اور کو دیئے جارہے ہیں۔آپ ؐ نے ایک خیمہ میں سب انصار کو جمع کیا اور اس میں فرمایا کہ تم نے ایسا ایسا کہا تو انہوں نے عرض کیا۔ہم میں سے نادان بچوں نے ایسا کہا ہوگا۔آپ ؐ نے فرمایا۔جو احسان تم نے مجھ سے کئے ہیں ان کا بدلہ تو ’’حوض کوثر‘‘ پر ملے گا۔کسی شارح نے تو نہیں لکھا مگر میں اس سے سمجھ گیا۔دراصل ان سے کہا تمہاری تیز زبانی اور بے ادبی کا، جو مالِ دنیا کے لئے کی، یہ نتیجہ ہوگا کہ اب تم دنیا میں بادشاہی سے محروم رہو گے۔دیکھو تم بھی دنیا سے ایسا پیار نہ کرو کہ خدا کو بھول جاؤ اور دنیا میں ایسے منہمک نہ ہوجانا کہ مسیح اور اس کے جانشین کی بھی پرواہ نہ کرو۔تمہارے مقتدا نے جس کے طفیل تم مجھے بھی اپنا امیر کہتے ہو تم سے عہد لیا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کرو۔اس عہد کی خلاف ورزی کر کے منافق نہ بنو۔قرآن میں ہے۔ (التوبۃ : ۷۷) بڑا نازک مقام ہے اس سے بچو۔(الحکم جلد۱۶ نمبر ۳۸ مورخہ ۱۴؍ دسمبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۲، ۳) خلیفۃ المسیح کی آرزو حضرت خلیفۃ المسیح ؓ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ میری آرزو ہے کہ ایک قرآن مجید صحیح اور خوشخط چھپے اور اس کے حواشی پر مشکل لغت کل حل وں اور کوتاہیوں کی وجہ سے وقفہ پڑا ہوا ہو۔