ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 258
لے گیا۔بعد میں مقدمہ چل پڑا۔اس پر خرچ ہوا سات سال قید کی سزا ہوئی۔رہائی پر سات روپے کا ماہوار ملازم ہوا۔کوئی رشوت کا موقع سامنے آیا کہنے لگا۔ابھی نہیں لیتا پندرہ روپے تک تو پہنچ لوں۔اس قدر مصیبت کے بعد عبرت کا یہ حال تھا۔(ماخوذ از کلا م امیر۔البدر جلد ۱۲ نمبر ۲۲ مورخہ ۲۸؍ نومبر ۱۹۱۲ء صفحہ۳) بفضل خدا پورے ہونے والے تین رؤیا پہلا خواب آپ نے دیکھا کہ ’’ہندؤوں کے گھر میں میری شادی ہوئی ہے۔اس کی تعبیر یہ بھی ہے کہ ہندؤوں میں میرا روحانی اثر بھی پھیلے گا۔پھر میری ساس نے مجھ سے کہا کہ فلاں مندر کی پوجا کر آؤ۔میں وہاں گیا ہوں دو بت دیکھے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ الٰہی میں تو بچپن سے مؤحد ہوں اس شرک سے محفوظ رکھ۔پھر میں نے استغفار پڑھنا شروع کیا جس سے ایک بت گرگیا پھر دوسرے بت کی طرف میری توجہ ہوئی مگر استغفار سے اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تو میں نے لَاحَوْلَ پڑھنا شروع کیا۔جب میں نے زور سے لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ کہا تو وہ بھی گر پڑا۔اس کے بعدشیطان کو میں نے دیکھا جس کے ہاتھ میں چمٹا ہے اور وہ میرے سر پر وار کرنا چاہتا ہے مگر میں نے جب لَاحَوْلَ پڑھا تو وہ بھاگ گیا۔اس کی تعبیر مجھے یہ سمجھائی گئی کہ دھرم پال جس کی کتاب کا میں ردّ لکھ رہا تھا عنقریب اس باطل کا بت پاش پاش ہو جائے گا۔چنانچہ اب اس نے اپنا عقیدہ ظاہر کردیا کہ میں وید کو کلام الٰہی نہیں مانتا۔دوم میرا ارادہ تھا کہ ستیارتھ پر کاش کے چودھویں باب کا جواب لکھوں۔اس کے متعلق مجھے سمجھایا گیا کہ خدا خود ہی اس کے لئے سامان کرے گا‘‘۔دوسرا خواب ’’میں نے سلطان عبدالحمید کو دیکھا کہ ایک جھولدار چارپائی پر میلی توشک پڑی ہے اور وہ اس پر بیٹھا دکن کی طرف منہ کئے رو رہا ہے اور کپڑا چاروں طرف سے سمٹا جارہاہے اس کے ہاتھ میں ایک خالی گھڑی ہے میں نے چاہا کہ بھردوں۔مگر بھری نہیں گئی ہے۔تعبیر اس کی یہ سمجھائی گئی ہے کہ سلطان عبدالحمید کی سلطنت کے عمائد اچھے لوگ نہیں اور اس کا ملک کم ہوتا جارہا ہے اور میں نے دعا