ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 24
کانگریس نام کے بعد یہی دوسری کتاب ہے جو مجھے اپنے مضمون میں پسند آئی ہے۔جناب الٰہی کافضل ہر ایک ملک پر ہوا ہے اور ہوتا ہے۔ہماری پاک کتاب میں ہمارے خالق و مالک کا نام ربّ العالمین ہے۔اگر یونان کی زمین نے مخلوق کے لیے مفید روحوں کو پیدا کیا ہے تو وسط ایشیا کو بھی ایسے پاک ارواح سے محروم نہیں رکھا۔اگر ملک عرب و ایران راحت بخش قطعہ دنیا کا ہے جس میں قلب و قالب کے لیے مفید سامان مہیا ہیں تو ہندوستان بھی اس کی ربوبیت و فضل عام سے سیراب ملک تھے۔جالینوس وبقوریدوس وغیرہ پر فضل محدود نہیں۔بوعلی و زکریا، رازی وغیرہ بھی اس کے کرم و فضل کے نیچے تھے۔چرک، شرت، باگ بھٹ وغیرہ کی محنتیں بے ریب قابل قدر ہیں۔آج کل یورپ کی مفید عام محنتوں کا کون انکار کرسکتا ہے۔تار، ڈاک، ریلوے، کاغذ، مطبع، سلطنت وسیع وغیرہ وغیرہ اورپھر ان کے ڈاکٹروں کی محنت سے نادان ہی منکر ہوسکتا ہے۔اس وقت ایک مجموعہ طب کی بھاری ضرورت ہے جس پر ملک کی بہبودی منحصر ہے۔مہتہ سیتا رام جی دت کویراج کویرنجن، ادتیہ، اوشد ہالہ، صدربازار، راولپنڈی کی محنت بہت ہی قابل قدر ہے۔ہندو مسلمانوں کی کشیدگی خدا کرے ملک کی ترقی کا موجب ہو۔مجھے بڑی خوشی ہوگی اگر ملک اس رسالہ کی قدر کرے۔دستخط نورالدین از قادیان (البدر جلد ۱۱ نمبر۲۴ مؤرخہ ۷؍ مارچ ۱۹۱۲ء صفحہ ۳) بِسْـمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْــــمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اشتہار ضروری مجھے اس بات کو معلوم کرکے بہت افسوس ہوا ہے کہ فنڈ یتامیٰ اس وقت پانچ چھ سو روپیہ کا مقروض ہے اور جہاں اس کے اخراجات دو سو روپیہ ماہوار کے قریب یا اس سے بھی بڑھے ہوئے ہیں آمدنی پچاس روپیہ ماہوار بلکہ اس سے بھی کم ہے۔اس لئے میں جماعت کے مخلصوں کو اس طرف خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں۔