ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 231 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 231

ہوسکے توکارڈ ہی سہی۔بعد دعا کے خوا جہ صاحب کو رخصت کیا گیا۔نماز تہجد کی نذر ماننا ایک شخص نے سوال کیا کہ میں نے ایک کام کے عوض میں تہجد کی نماز نذر مانی ہے۔فرمایا۔تہجد کی نذر ماننی میرے نزدیک اچھی نہیں کیونکہ تہجد کی نماز اللہ تعالیٰ نے فرض نہیں فرمائی۔جب تم نذر مانو گے تو اس صورت میں تہجد کی نماز تم پر فرض ہوجائے گی اور انسان کمزور ہے۔احمدی ایک آدمی کا خط پیش ہوا تو فرمایا کہ جو شخص آپس میں فساد ڈلواتا ہے ، لڑائی جھگڑے کو پسند کرتا ہے اور رشوت اور ناجائز وسائل سے روپیہ کماتا ہے وہ احمدی نہیں ہے۔ایک آدمی کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمانے لگے کہ وہ احمدی نہیں۔جو اس کو احمدی کہتا ہے وہ غلطی کرتا ہے وہ ہماری جماعت سے نہیں۔لڑکیوں کا بغیر اجازت کے نکاح کردینا اور عدت وغیرہ کا کوئی لحاظ نہ کرنا کیا یہ احمدیوں کا کام ہے؟ طرز نظم فرمایا۔میں نے تین زبانوں کا مطالعہ کیا ہے۔عرب لوگ اپنے شعروں میں معشوق کو مؤنث باندھتے ہیں اور اپنے آپ کو مذکر۔یہ فطرت کے مطابق معلوم ہوتا ہے۔ایرانی لوگ، معلوم ہوتا ہے ا ن میں لواطت بہت کثرت سے ہے۔اپنے معشوق اور اپنے آپ دونوں کو مذکر باندھتے ہیں اور خوب خط وخال کا نقشہ کھینچتے ہیں۔سنسکرت اپنے معشوق کو نر باندھتے ہیں یعنی پتی اور اپنے آپ کو مؤنث۔یہ پہلی قسم کا الٹ ہے۔کرشن کی گوپیاں پھر فرمایا۔کرشن کے متعلق یہ جو مشہور ہے کہ ان کی سولہ لاکھ گوپیاں تھیں۔تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ سولہ لاکھ ان کے مرید ہوں گے اور محبت کی وجہ سے انہوں نے اپنے آپ کو کرشن صاحب کا اس طرح مطیع و فرمانبردار بنالیا جس طرح کہ بی بی اپنے آپ کو خاوند کا مطیع و فرمانبردار بنالیتی ہے تو اس واسطے ان کو اعنی کرشن کو پتی کہا اور خود پتنیاں بن گئیں۔ورنہ نہ تو سولہ لاکھ عورتوں