ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 230
حضرت علیؓ امام حسن و حسینؓ کا ذکر نہ کیا جاوے تو اس کو بے ایمان جانتے ہیں۔اسی طرح ہر ایک فرقہ کا نام نہ لیا جاوے تو وہ اس کو برا بلکہ بے ایمان سمجھتے ہیں۔فرمایا۔یہ غلط ہے۔اسی طرح پر احمدیوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام نہ آوے تو اس کو بے ایمان سمجھتے ہیں۔میرے گھر میں ایک عورت آئی۔میری بی بی نے اس کو پوچھا کہ تمہاری فلاں گدی کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا (جی کیا بات ہے وہاں تو نور ہی نور ہے اور اندر باہر نور ہی نور نظر آتا ہے) پوچھا کہ آخر کیا ہے؟ تب اس عورت نے کہا کہ اندر بھی باہر بھی راگ کا نور برس رہا ہے۔اندر باہر گانے والے قوال بیٹھے رہتے ہیں۔خواجہ صاحب کو نصیحت درس ظہر کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح نے خوا جہ کمال الدین صاحب کو اشارہ کرکے فرمایاکہ آؤ آپ کو بھی چند باتیں سنا دیں۔فرمایا۔تم ولایت کو جاتے ہو کسی اپنی خوبی کا گھمنڈ مت کرنا۔فرمایا۔ولایت میں بڑے بڑے کام ہوتے ہیں اور اس میں بڑے بڑے ابتلا بھی ہیں اور بڑے بڑے آرام بھی ہیں اور وہاں بڑے بڑے شریر بھی ہیں اور اس میں بڑے بڑے شرفا بھی ہیں۔وہ شہر میرے نزدیک ایسا ہے کہ اس میں بڑے بڑے نیک لوگ بھی ہیں۔فرمایا۔میرا ایمان ہے کہ اگر اس شہر میں نیک لوگ نہ ہوتے تو وہ شہر آباد نہ ہوتا۔فرمایا۔شراب، سؤر، بری مجلس سے بچتے رہنا۔میرے بھی تم پر بڑے بڑے حق ہیں میری باتوں کا خیال رکھنا۔فرمایا۔بقدر طاقت اپنی کے دین کی خدمت وہاں ضرور کرو۔فرمایا۔اور کوئی وہاں اپنی ترقی (وکالت) کا بھی کام کرو۔فرمایا۔ہفتہ میں ایک خط یہاں پہنچ جاتا ہے اس لیے ہم کو ایک خط ضرور لکھا کریں۔اگر نہ