ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 229 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 229

نہ ہو۔آج کل ہمارے فرزندان عبدالحی اور عبدالسلام کشمیر کی سیر کو تشریف لے گئے ہوئے ہیں اور ہماری بی بی کو ان کا بہت فکر لگا ہوا ہے۔چنانچہ کل تار کے جواب جلد نہ آنے سے ان کو بہت تکلیف ہوئی۔میں نے ان کو سمجھایا کہ کوئی خوف و حزن کی بات نہیں اللہ تعالیٰ ان کا محافظ ہے وہ خود ہی ان کو یہاں لے آئے گا۔پھر آپ نے فرمایا کہ ایک لڑکا علی گڑھ کالج میں ہمارے خرچ سے پڑھتا تھا اور وہ ہندو سے مسلمان ہوا تھا۔ہم نے اس کے پڑھانے پر ہزاروں روپیہ خرچ کیے اور جب وہ پڑھ چکا تو اس نے ہمیں ایک خط اس مضمون کا لکھا کہ میں اسلام کو چھوڑتا ہوں اور اپنی ناپاکی کو اتارنے کے لیے گنگا جی جاتا ہوں۔جس وقت میرے پاس یہ خط پہنچا اس وقت میرا ایک دوست میرے پاس بیٹھا ہوا تھا اور وہ جانتا تھا کہ میں نے اس لڑکے کی پڑھائی پر ہزاروں روپیہ خرچ کیے ہیں اس واسطے اس نے خیال کیا کہ یہ خط پڑھ کر چیخ اٹھے گا مگر ہم نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ہمیں ایک چھوٹا سا اور بڑا لطیف مضمون سمجھادے۔چنانچہ میں نے خط کے جواب میں ایک کارڈ پر ایک آیت لکھ دی جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر ایک آدمی تمہارے دین سے مرتد ہوجاوے تو خداوند کریم اپنے کرم سے ایک قوم دیتا ہے اور ہم کو اس تمہارے خط سے نہایت ہی خوشی ہوئی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں ایک جماعت عطا فرمائی۔عمل کرو ایک شخص کے خط کے جواب میں فرمایا۔کوئی شریر نہ ہمارا ہے اور نہ ہم اس کے۔احمدی کہلانے سے کوئی احمدی نہیں ہوسکتا۔میں نے بعضے کنجروں کو بھی دیکھا ہے کہ وہ مسلمان کہلاتے ہیں لیکن کیا وہ مسلمان ہوتے ہیں؟ میرے نزدیک ایسے لوگوں کو اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔مسجدیں اللہ کے نام کے لیے ہوتی ہیں اور جھگڑوں میں نہیں پڑنا چاہیئے۔فرمایا۔بعض لوگ خالص اللہ کے نام کو پسند نہیں کرتے اور برا جانتے ہیں۔شیعہ میں اگر