ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 228 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 228

لوگ کہتے ہیں کیا مسیح مہدی ہے۔میں کہتا ہوں کہ کیا مہدی کوئی کبوتر ہوتا ہے۔ہمارے نزدیک تو حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علی ؓ اور امام حسنؓ، امام حسینؓ ، جعفر ؓ ابن محمد سب مہدی تھے۔سید عبدالقادر جیلانی حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ ، حضرت مجدد الف ثانی ؒ ، حضرت شہاب الدین سہروردی ، حضرت زکریا ملتانی سب مہدی تھے۔امرتسر میں ایک شخص کے ہاں ایک قسم کی گولی بکتی تھی۔اس پر مسیح صادق لکھا تھا۔حضرت صاحب نے کون سا اندھیر کیا کہ مہدی ہونے کا دعویٰ کردیا۔لوگ اپنے دشمن کو سُؤر، گدھا، اُلو ، کتا وغیرہ کہہ دیتے ہیں۔ہم پوچھتے ہیں کہ بددعاؤں میں تو یہ لفظ استعمال کر لئے۔کبھی کسی اپنے بھائی کے واسطے یہ بھی دعا کی کہ تم مہدی یا مسیح ہو جاؤ۔عمر یا ابوبکر ہوجاؤ، اس کے یہ معنے سمجھنے غلطی ہے کہ وہ عمر ہی ہو۔جیسا کہ تم بروں کو کتا اور گدھا وغیرہ کہتے ہو۔ایسا ہی نیکوں کو بھی کہہ دیا کرو کہ فلاںایسا ہے جیسا امام اعظم ہے۔فلاں ایسا زاہد ہے جیسے فلاں زاہد ہے۔لوگوں نے مہدی کے لفظ کو خوفناک بنادیا ہے۔ہمارے بھیرے کے پاس ایک گاؤں ہجکہ ہے وہاں ایک حیدر نام ملنگ فقیر رہتا تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ امام مہدی کی کیا علامت ہوگی۔اس نے کہا کہ حضرت مہدی کی علامت صاف ہے۔ہم سوالاکھ فقیر مُتہروں والے آگے آگے ہوں گے اور دھمال پاتے جائیں گے۔(یعنی ڈھول بجا کر ناچتے ہوں گے۔راقم) پیچھے امام مہدی ہوں گے۔میں نے کہا کہ مولوی لوگ ساتھ نہ ہوں گے۔اس نے کہا کہ اگر انہوں نے بھی ساتھ ہی ہونا ہے اور نمازیں ہی پڑھانی ہیں تو ہم نے ایسے امام مہدی کو کرنا ہی کیا ہے۔وہاں تو سوالاکھ مُتہر (بھنگ گھوٹنے والا ڈنڈا۔راقم) چلے گی پھر ہم کو لوگ خطوں میں لکھتے ہیں مسیح الزمان ہمارے آقا کو تو مسیح الزمان مانتے نہیں اور ہمیں مسیح الزمان سمجھتے ہیں۔(محمد عبداللہ بوتالوی) (البدر جلد ۱۲ نمبر ۱۳ مورخہ۲۶؍ ستمبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۳ ،۴ ) مومن کو خوف نہیں  (البقرۃ:۳۹) پڑھ کر فرمایاکہ قرآن مجید مجھے ایسا نسخہ ملا ہے کہ ہمیں کبھی خوف اور حزن نہیں ہوتا خواہ کیسی ہی بڑی بات کیوں