ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 227 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 227

تھوڑی دیر میں خراب کردئیے ہیں۔انہوں نے فرمایا۔کیا ہرج ہے؟ تم اس کے نام بہی کھاتہ جدا کردو اور وہاں سے خرچ کرتے رہو۔جب بڑا ہوگا تو اپنا قرضہ خود اتار لے گا۔فرمایا۔میں ایک دفعہ گلستان پڑھ رہا تھا۔میں نے کہا کہ یہ گلستان تو بہت بد خط ہے۔انہوں نے فرمایا کہ چھوڑ دو۔میں کئی دن فارغ رہا۔انہوں نے کشمیر سے نہایت خوشخط گلستان منگوائی اور میرے حوالہ کی۔ایک دفعہ میں نے اس پر بے احتیاطی سے جو دوات رکھی اور وہ ہوا سے الٹ گئی تو سیاہی اس پر پھیل گئی۔میں نے کہا کہ میاں صاحب اس پر تو سیاہی گر گئی۔انہوں نے نہایت عالی حوصلگی سے فرمایا کہ کیا ہرج ہے اور لے دیں گے۔قناعت اور غناء فرمایا کہ نواب بہاولپور ہمیں ساٹھ ایکڑ زمین دیتا تھا۔ہم نے انکار کیا اور کہا کہ اس قدر زمین سے کیا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ آپ اس سے امیر کبیر ہوجائو گے۔میں نے کہا کہ اب تو آپ ہمارے پاس چل کر آتے ہیں۔کیا پھر بھی آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ نہیں۔میں نے کہا کہ پھر فائدہ ہی کیا ہے؟ پھر فرمایا کہ میں نے اپنی اولاد کے واسطے کبھی فکر نہ کیا۔نہ زمین کا نہ کسی اور بات کا۔اگر ہم زمین لینا چاہتے تو بے شمار زمین جمع کرلیتے۔اللہ نے میرے دادا سے بڑھ کر اولاد اور رزق میرے باپ کو دیا پھر مجھ کو مال، کتابیں، علم، شہرت وغیرہ سب کچھ باپ سے زیادہ دیا۔مہدی بہت ہیں فرمایا۔مہدی بہت ہوئے ہیں۔محمد بن عبداللہ بھی ایک مہدی گزرے ہیں۔امام حسن کی اولاد سے تھے۔ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی مہدی ہے۔جس محمد نے قسطنطنیہ فتح کیا تھا وہ بھی مہدی ہے۔سید عبدالقادر جیلانی بھی مہدی ہیں۔یہ بھی حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ حضرت عباس کی اولاد سے مہدی ہوگا یہ حجج الکرامہ میں ہے۔حدیث میں آیا ہے عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الْمَہْدِیِّیْنَ(التوضیح لشرح الجامع الصحیح کتاب الطلاق باب حکم المفقود فی اہلہ و مالہ)۔سب خلفائے راشدین مہدی ہی ہیں۔