ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 226 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 226

گھوڑی پر اور گھوڑے کو گدھی پر نہ ڈالے حالانکہ آپ خود خچر پر سوار ہوتے تھے تو پھر منع کیوں کیا۔اس واسطے کہ تم یہ کام نہ کرو اور لوگ کریں۔اسی طرح بت بنانے اور تصویر بنانے سے منع کیا۔اسی طرح ثمن الکلب یعنی کتے کا مول لینے سے منع کیا ہے۔اس واسطے کہ تم سارے جہان کے کسبوں کو کیوں چھینتے ہو۔ان کو بھی بعض کام خاص طور پر کرنے دو۔یورپین لوگوں کا یہ منشاء ہے کہ دنیا کے سارے کام ہمارے ہی قبضہ میں آجاویں۔یہ بخل ہے۔غرضیکہ جتنے ذلیل پیشے ہیں ان سے اسلام والوں کو منع کیا ہے۔مسلمان گھوڑے رکھیں، گائے رکھیں، سور کیوں رکھیں۔چوہڑے کا کسب شرفا کا پیشہ نہیں ہے۔…… میں نے صحابہ میں بہت غور کیا ہے وہ کسی جولاہے کو حقارت سے نہیں دیکھتے تھے۔بعض قصور ان لوگوں (جولاہوں ) سے سرزد ہوئے ہیں جس کی وجہ سے یہ لوگ ذلیل ہوگئے ہیں۔تعلیم دلانے کے بارہ میں وسیع حوصلہ فرمایا۔ایک دفعہ میرے والد صاحب مکتب میں آنکلے۔میں تختی کو ہوا میں ہلا ہلا کر سوکھا رہا تھا۔انہوں نے پوچھا کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ میں نے کہا کہ تختی کو سوکھا رہا ہوں۔انہوں نے کہا۔بازو کو کیوں گندہ کیا ہے؟ میںنے کہا کہ اس کے ساتھ تختی کو صاف کیا ہے۔انہوںنے فرمایا کہ تختی کو تو صاف کیا مگر جسم کو گندہ کیا۔پھر میں نے وہ گھڑا بھی جو کالے پانی سے بھرا ہوا تھا دکھایا کہ یہاں پر تختی دھوئی تھی۔تو فرمایا کہ آئو ہم اس کام کو پسند نہیں کرتے۔مجھے ہمراہ لے گئے۔ایک دوکان سے سیالکوٹی کاغذ بہت سے خریدے اور ایک شخص غلام حسن کو دے کر کہا کہ ان کو وصلیاں بنادو اور مجھے وہاں بٹھا گئے۔میں ان کے گرد ہوگیا اور زور دیا کہ ابھی بنا دو۔انہوں نے ایک کاغذ کے چار چار ٹکڑے کرکے دو دو ٹکڑے جوڑ کر وصلیاں بنادیں اور گھونٹ کر خوب صاف کردیں۔کسی قدر جو تیار ہوگئیں ان کو لے کر میں گھر چلا آیا اور لکھنے لگ گیا۔کسی پر الف لکھا، کسی پر ب لکھا، کسی پر کچھ کسی پر کچھ۔غرضکہ جھٹ پٹ وہ تمام وصلیاں لکھ کر ختم کردیں۔میرے والد صاحب باہر سے آئے تو بھائی صاحب نے والد صاحب کو کہا کہ آج آپ نے نور الدین کو کیا بتایا ہے کہ یہ کاغذ ضائع کررہا ہے۔دیکھو ! کتنے کاغذ اس نے