ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 225
ملفوظات حضرت خلیفۃ المسیح ذمہ واری بہت مشکل کام ہے فرمایا۔ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے اپنی تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا کہ میںیہ تلوار دینی چاہتا ہوں۔کوئی تم میں سے ہے جو اس کو لے۔سب کھڑے ہوگئے اور ہر ایک کہنے لگ گیا کہ مجھے دیجئے۔مجھے دیجئے۔پھر آپ نے فرمایا۔بِحَقِّہَا یعنی اس کا کچھ حق بھی ہے وہ بھی ساتھ ہی لینا ہوگا۔اس بات کو سن کر سب صحابہ نے نیچے سر کر لیا اور کوئی نہ بولا۔تھوڑی دیر کے بعد ایک صحابی اٹھا اور اس نے کہا۔بِحَقِّہَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ یعنی اس کو بمعہ اس کے حق کے لیتا ہوں۔چنانچہ آپ نے اس کے حوالہ تلوار کردی۔پھر ان کو بھاری بھاری کام کرنے پڑے۔بات یہ ہے کہ جب ذمہ واری کا کام آپڑتا ہے تو مشکل پڑ جاتی ہے۔عدم جواز بت سازی و بت فروشی کی حکمت فرمایا۔بت سازی ، بت فروشی کی جو مسلمانوں کو ممانعت کی گئی ہے اس میں بھاری حکمت یہ ہے کہ تا یہ کام دوسری قومیں کریں اور وہ بھی فائدہ اٹھائیں۔اسلام بخیل نہیں ہے کہ سارے کام خود ہی سنبھال لیوے۔دنیا میں بعض کاموں کو اس نے اسلام کے واسطے خاص کیا ہے اور بعض دوسروں کے واسطے خاص کئے ہیں۔بعض مشترک ہیں۔اگر کوئی کہے کہ اس سے تو جواز ثابت ہوگیا جبکہ دیگر مذاہب کو اجازت دی گئی۔نہیں جواز نہیں بلکہ یہ ایک طرح کی تقسیم کی گئی ہے اور منشاء الٰہی اسی طرح ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(الحج :۴۱)۔جبکہ دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کو اللہ تعالیٰ نے قائم رکھا ہے۔تو ایک طرح کا منشاء ہی ہے۔دراصل اسلام رحمۃ للعالمین ہے ، سب جہان کو فائدہ پہنچانے والا ہے۔آنحضرت ﷺ نے چند کسب اپنی قوم کے واسطے تجویز کئے باقی اوروں کے لئے رکھے۔ناچنا گانا آجکل کے یورپینوں کے واسطے چھوڑا ہے۔تصویر بنانا بھی دوسرے مذاہب کے واسطے ہے۔اسی طرح فرمایا کہ گدھے کو