ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 220
موت کے ساتھ فرصت ایک شخص نے کہا کہ حضور کچھ فرصت ہے؟ کہا کہ ہم تو موت کے ساتھ فرصت چاہتے ہیں۔فرصت ہو تو موت ہی کیوں نہ ہو۔یہ ایک بے ہودہ بات ہے کہ آپ فرصت پوچھتے ہیں اگر آپ کو کچھ کام ہے تو آپ اپنا مطلب بیان کریں۔عرب و عجم اور شرفاء میں گالی فرمایا۔سب سے بڑھ کر پنجاب میں گندی اور فحش گالیاں دی جاتی ہیں، اس کے بعد ہندوستان میں۔اس کے بعد کشمیر میں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بہت مظلوم رہے ہیں اس لئے ان بیچاروں کو گالیاں دینے کی عادت ہوگئی۔عربوں کو دیکھو کہ ان کی زبان میں ’’تیرا کان کاٹاجائے‘‘ ہی گالی ہے۔شرفاء میںگالی کم ہوتی ہے۔جس قدر فراست بڑھتی جاتی ہے اسی قدر گالیاں بڑھتی جاتی ہیں۔عبداللہ بن سہل کا قتل عبداللہ بن سہل کو یہودیوں نے مارڈالا۔اس کے بھائی نے جو اس کو مرتے دیکھا اس وقت اس کے خون جاری تھا۔اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمسے آکر کہاکہ میرے بھائی کو یہودیوں نے مار ڈالا۔آپ نے فرمایا تم چھوٹے ہو کسی بڑے آدمی کو بلاؤ۔جب بڑا آدمی آیا تو فرمایا۔تم میں سے پچاس آدمی قسم کھائیں کہ اس کو یہودیوں نے ہی قتل کیا ہے۔انہوں نے عرض کی یارسول اللہ ہم تو وہاں نہ تھے ہم کیسے قسم کھا سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اچھا یہودیوں میں سے پچاس آدمی قسم کھائیں کہ ہمارے کسی آدمی نے اس کو قتل نہیں کیا۔تو انہوں نے کہا کہ ایسے بے ایمان آدمیوں کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں۔آپ نے فرمایا کہ پھر فیصلہ کیسے ہو؟ پھر کہا کہ اچھا ہمارے پاس سے یہ سو اونٹ لے جاؤ۔آپ نے اپنے پاس سے سو اونٹ دے کر فیصلہ کردیا۔شاعر کہتے تو ہیں مگر عمل نہیں کرتے شاعر بہادری اور سخاوت وغیرہ کی تعریف تو بہت کر دیتے ہیں مگر خود بہادر اور سخی نہیں ہوتے۔ایک شاعر اپنے معشوق کی تعریف کرتے کرتے لکھتا ہے کہ میں تو اس کو ہاتھ لگاتے لگاتے تھک گیا مگر سورج کی کرنیں بھلا کب قابو میں آسکتی ہیں۔