ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 218 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 218

کافروں کا مال ناجائز طریق سے ہتھیانا ایک مرتبہ مولوی … صاحب یہاں تشریف لائے انہوں نے ایک نو<mark>جو</mark>ان کو میرے سامنے پیش کیا اور کہا کہ یہ غریب ہے پر بڑا ہی نیک ہے آپ <mark>اس</mark> کو اپنے ہاں ملازم رکھیں۔میں نے <mark>اس</mark> کو رکھ لیا۔<mark>اس</mark> کو ایک روز میں نے ایک چونی دی اور کہا کہ <mark>اس</mark> کے پیسے بازار سے لے آؤ۔وہ بازار گیا اور <mark>اس</mark> نے سولہ پیسے مجھے لا کر دیئے۔میاں نجم الدین بڑا ہوشیار آدمی ہے وہ کہیں <mark>اس</mark> کے پیچھے چلاگیا۔معلوم نہیں کہ <mark>اس</mark> نے <mark>اس</mark> کو پیسے لیتے ہوئے دیکھا نہیں۔جب وہ واپس آیا تو میاں نجم الدین نے <mark>اس</mark> سے پوچھا کہ چونی بھی تمہارے پ<mark>اس</mark> ہے اور چار آنے کے پیسے بھی تم لے آئے ہو۔اگر پیسے تمہارے پ<mark>اس</mark> تھے تو تم نے وہیں دے دیئے ہوتے بازار جانے کی کیا ضرورت تھی۔<mark>اس</mark> نے کہا کہ پیسے تو میں بازار ہی سے لایا ہوں میرے پ<mark>اس</mark> تو نہیں تھے۔دکان پر ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا میں نے <mark>اس</mark> سے چار آنے کے پیسے لئے۔<mark>اس</mark> نے مجھے پیسے دے کر چو ّنی وہیں رکھ دی۔میں نے <mark>اس</mark> کو دھوکا دینے کے لئے کہا کہ فلاں چیز اندر سے لا کر دکھلاؤ۔وہ اندر لینے گیا۔میں نے چو ّنی اٹھالی پھر <mark>اس</mark> کو کہہ دیا کہ میں یہ چیز نہیں خریدتا اور <mark>اس</mark> طرح سے چو ّنیبھی لے آیا اور پیسے بھی۔میاں نجم الدین نے کہا کہ یہ تو ناجائز ہے۔<mark>اس</mark> نے کہا کہ کافروں کا مال ہے ان سے ایسا ہی کرنا چاہیے۔(النساء:۱۴۲)۔میاں نجم الدین نے مجھے بتلایا کہ یہ معاملہ <mark>اس</mark> طرح ہے۔میں نے مولوی صاحب سے <mark>اس</mark> واقعہ کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ امام شوکانی صاحب کا فتویٰ ہے <mark>اس</mark> لئے جائز ہے۔لڑکا نیک تو بہت ہے مگر <mark>اس</mark> فتویٰ سے مجبور ہے لیکن اگر یہ پکڑا جائے تو پھر کیا یہ نہ ہوگا کہ یہ نورالدین کا آدمی ہے۔دوسرے جب کافروں کا مال <mark>اس</mark> طرح سے لینا جائز ہے تو کل کو اگر یہ ہمیں بھی کافر کہہ دے تو پھر ہم کو بھی <mark>اس</mark>ی طرح سے لوٹ لے گا۔پھر میں نے <mark>اس</mark> کو نکال دیا۔ایک مولوی کا کتابیں چورانے کا واقعہ فرمایا۔ایک اور لطیفہ سنائیں۔بھیرہ میں ہمارے