ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 213
دوسرا اعتراض قرآن کریم میں خلفا ء کے نام نہیں۔میں نے عرض کیا تھا کہ حضرت نبی کریم ﷺ کے خلفاء قیامت تک ہونے تھے۔قیامت کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی کو بتایا نہیں بلکہ فرمایا۔(لقمان : ۳۵)۔خلفاء کی عمر ساٹھ ستر کے درمیان حد سواسو برس ہوتی تو کس قدر اسماء خلفاء کے قرآن میں سماتے اور آخر فیصلہ نام سے تو ہرگز نہ ہوتا۔اب تک ہزاروں امام علی ، علی امام، علی ، حسن ، حسین، جعفر محمد نام کے موجود ہیں کس کس کو امام مانیں۔پھر فیصلہ آخر تائیدات الٰہیہ پر ہی ہوتا۔تو نام کا ذکر لغو جاتا۔تَعَالٰی سُبْحَانَہٗ عَنِ اللَّغْوِ۔باقی رہا اجماع کا جھگڑا۔سو مولانا شاہ صاحب ! میں تو اس طرف آیا ہی نہیں۔مجھ پر اعتراض کیا ہوا۔ہاں میں بھی سنی ہوں گو ہمارے مخالف مجھے کافر اکفر کہیں۔یہی ان کے پاس سروپا ہے اور ان کے پاس ہے ہی کیا جو دیں مگر میرے وہم میں کبھی نہیں آیا کہ خلافت کو اجماع سے ثابت کروں۔پھر آپ کیوں بار بار اجماع کا جھگڑا لے بیٹھتے ہیں ہاں جو سنی اجماع سے خلافت ثابت کرتے ہیں اُن سے آپ دریافت فرماویں۔تیسرا اعتراض کہ نام ہوتا تو کیا مفید نہ ہوتا۔نام و نشان دونوں پورا پتہ دیتے۔جواب عرض ہے کہ میرا اور آپ کا کام نہیں کہ اللہ رسول کو سمجھائیں اور بتائیں۔اے اللہ! تو اس طرح کرتا تو اچھا ہوتا۔پھر نام ہوتا تو قرآن کریم میں ہوتا اور کتنے نام ہوتے۔چھ، بارہ ، پچاس، سو ، ہزار ، لاکھ ، کروڑ ، بے انتہا۔سنیے۔زیدی شیعہ ہیں ان کے یہاں زید بن علی بن حسین بن علی علیہم السلام امام ہیں نہ محمد بن علی علیہما و علیٰ آبائہما السلام۔کیسانی محمد بن علی ابن حنیفہ کو امام برحق موجود صاحب العصر یقین کرتے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے اب تک وہ رضوی میں موجود ہیں آغا خانی کو اب غالباً امام پچاس ویں نمبر پر مانتے ہیں۔امامیہ اثنا عشر بارہ پر ختم ہیں۔خارجی ہر پچیس برس بعد ایک امام ضروری یقین کرتے ہیں اور بعض پچاس برس کے بعد امام کا آنا ضروری کہتے ہیں۔شاہ صاحب ! میں نے جہاں تک مذاہب اسلام پر غور کیا ہے ان کی عمدہ سے عمدہ اور فی الواقع