ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 204
قبول ہو گئی۔اب وہاں جا کر دیکھو کہ کوئی بھی اس محلہ میںایسا لڑکا یا لڑکی نہیں ہے کہ جو ان تینوں حالتوں میں سے ایک نہ ایک میں گرفتار نہ ہو۔ہمارے شہر میں جب ہم پر بڑے کفر کے فتو ے لگے تو دو شخص بڑے نمبردار مخالفت کے تھے۔ایک کا بیٹا تو بڑا کٹّا وہابی ہے اور ایک کا بیٹا سب مراتب تقلید کو طے کر گیا۔۱۲؎ شریعت میںکوئی امر انسان کے فوق الطاقت نہیں انسان میں جہاں اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے قویٰ رکھے ہیں کہ جن پر اس کا دست تصرف نہیں۔وہاں اُس نے ایسے قویٰ بھی بخشے ہیں کہ جن پر اس کا دست تصرف ہے جو پاک اور سچی شریعت ہو گی وہ ہم کو ہمیشہ ان قویٰ پر حکومت کرنے کا حکم نہیں دے گی جن میں ہمارا دخل و تصرف نہ ہو۔ایک مرتبہ ایک شخص ہمارے پا س آیا۔اس نے اپنے آدمی کو کہا کہ بہت جلد دودھ کی خبر لائو کہ آیا بازار میں مل جائے گا یا نہیں۔میں نے کہا کہ تم اس قدر جلدی کیوں کرتے ہو؟ اس نے آدمی بھیجا وہ گیا اور ایک دکان سے نو سیر پختہ دودھ خرید لایا۔تب اس نے مجھے جواب دیا کہ میں نے اس قدر جلدی اس لئے کی کہ شاید پھر دودھ نہ ملتا۔وہ شخص صرف اکیلا وہیں بیٹھا بیٹھا تمام دودھ پی گیا۔میں تو حیران ہو گیا۔میں نے کہا تم دیو ہو یا انسان؟ کہنے لگا کہ جی ہم سفر سے آئے تھے تھکے ماندے تھے اور یہ تو ایک معمولی سی بات ہے۔اسی طرح ہمارے یہاں ایک ملازم تھا۔میرے بھائی صاحب نے اس کو ایک دوسرے گائوں میں چند کسانوں کے پاس کسی کام کے لئے بھیجا۔جب وہ ان کے پاس پہنچا تو وہ لوگ تو ہل چلا رہے تھے اور ان کے پاس سات ہالی گیروں کا کھانا رکھا ہوا تھا۔انہوں نے اس کو کہا کہ ہم تو کام میں لگے ہوئے ہیں اور تم کھانا کھا لو۔وہ ان ساتوں آدمیوں کا تمام کھانا کھا گیا۔دیکھو ان کے پیٹ اس قدر دودھ اور کھانے کو برداشت کر گئے مگر میں تو اس قدر کھانا برداشت نہیں کر سکتا۔تو شریعت ہم کو اس امر کا حکم نہیں دے سکتی کہ ہم کو کس قدر کھانا چاہیے۔جو باتیں ہماری طاقت سے بالا تر ہیں اس میں شریعت کوئی حکم نہیں کرتی۔دوسرا حصہ خد ا تعالیٰ نے انسان میں ایسا رکھا ہے کہ اس میں اس کا دخل و تصرف خوب ہے۔مثلاً