ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 181 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 181

صحابہ کی ہمیت اور توجہ فرمایا۔اب تو مسلمان بہت سُست اور پست حوصلہ ہو گئے ہیں۔زمانہ سابق میں ان میں بڑے بڑے اولو العزم لوگ گزرے ہیں غالباً حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت میں یہ سوچا گیا کہ اگر قیروان کے جنگل کے موقع پر اسلامی کیمپ لگ جائے اور وہاں فوج کی رہائش ہو تو وہاں سے شمالی جنوبی افریقہ اور صحرائے اعظم سب پر قبضہ رہ سکتا ہے۔اس جنگل میں دلدل تھی اور جنگل سانپوں اور درندوں سے پُر تھا اس لئے بعض صحابیوں کو اس جنگل کا انسانی آبادی کے قابل بنانا بہت مشکل معلوم ہوا۔ایک صحابی گھوڑے پر سوار ہو کر اس جنگل میں گھس گئے۔گھوڑا دوڑاتے جاتے اور بلند آواز سے کہتے جاتے کہ اس جنگل میں محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابی آباد ہونا چاہتے ہیں سانپو! درندو ! تم سب یہاں سے نکل جائو۔آج کل تو کوئی ایسا کرے تو اسے مجنون کہا جائے۔مگر اس وقت کے متعلق مؤرخ لکھتا ہے کہ اس آواز پر سب موذی جانور جنگل سے نکل گئے درخت کاٹے گئے اور چھائونی قائم کر دی گئی۔پرستاران حسین توجہ کریں فرمایا۔شیعہ لوگ سال بسال کسی ایسے صدمہ کی یادگار میں روتے اور ماتم کرتے ہیں جو کبھی حضرت امام حسین علیہ السلام پر گزرا اور بہت ہی سخت گزرا ہے مگر یہ نہیں سوچتے کہ جب حضرت امام خود اس مقدر تکلیف سے نہ بچ سکے تو اپنے پرستاروں کی کیا مدد کر سکتے ہیں اور مخلوق کو کیا نفع نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ دور حاضر کا بڑا بت فرمایا۔اس وقت بڑا بت روپیہ ہے۔کسی زمانہ میں جموں کی عدالتیں رات کو لگتی تھیں اور چراغوں کی ضرورت ہوتی تھی۔اس کے متعلق تقسیم تیل پر ایک شخص ملازم ہوتا تھا۔اس کو تنخواہ تو صرف چارروپیہ ماہوار ملتی تھی مگر بالائی ناجائز آمدنی کی کوئی حد نہ تھی۔ایک پنڈت ہمارے پاس آیا۔کہنے لگا کہ اگر حضور کی سفارش سے مجھے یہ آسامی مل جائے تو چار سو روپیہ فلاں حاکم کو جس کے ہاتھ اس تقرر کا اختیار تھا دے سکتا ہوں۔مجھے بڑا تعجب ہوا۔کہنے لگا اس میں گنجائش بہت ہے۔اوّل۔وزن کا فرق۔دوم۔بھائو کا فرق۔سوم۔یہ کہہ دیا کہ اتنا تیل گر کر ضائع ہو گیا۔مجھے بیٹی کی