ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 167
کر کسی کو خیال بھی نہیں آسکتا ہے جو پیشگوئی میں اظہار کیا گیا ہے۔علیٰ ہٰذ القیاس پیغمبر خدا ﷺ نے جب دعویٰ کیا تو مخالفین نے صرف یہی تکلیف سمجھی کہ ان کے بتوں کے خلاف کہتا ہے ان کو خیال بھی نہ تھا کہ یہ کیا ہو جاوے گا۔مجلس ندوہ نے فیصلہ کیا کہ یہاں سے نکال دو۔اگرچہ بعض نے کہا کہ قتل کر دو۔اُن کو دنیوی وجاہت پسند تھی۔اگر ابوجہل کو ذرا وہم بھی ہوتا کہ یہ بڑا آدمی ہو جائے گا تو وہ اور اس کے سب ساتھی ضرور مسلمان ہو جاتے۔ان کے وہم میں بھی یہ نہ تھا لیکن آج کیا ہو گیا۔اس زمانے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مشکل کے وقت پیغمبر خدا ﷺ کے پاس گئے۔آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جس پر کوئی کپڑا نہ تھا اور سرہانے کا تکیہ کھجور کی لیف کا بھرا ہوا تھا…… اور پھر سارے گھر میں کیکر کی پھلی کے دو ٹوکرے تھے اور دو چمڑے بکری کے ایک کونے میں لٹکے ہوئے تھے۔سوائے ان کے کوئی چیز گھر میں نہ تھی۔تب انہوں نے بھی یہی سوال کیا جو آپ نے کیا ہے کہ آپ تو بڑے رسول ہیں اور بڑے بڑے وعدے لے کر آئے ہیں وہ کہاں ہیں۔آپ کی حالت تو یہ ہے اور پھر قیصرو کسریٰ کی حالت کو دیکھیں کتنے بڑے بادشاہ ہیں۔پیغمبر خدا ﷺ بیٹھ گئے اور کہا میں دیکھ رہا ہوں کہ قیصر وکسریٰ کی کنجیاں تُو لوٹ رہا ہے۔پھر دیکھو کہ یہ بات کس طرح سچی ہوئی۔سراقہ بن مالک بن جُعْشُم ایک صحابی تھا جس کے ہاتھ پر چاند گرہن تھاا وربکری کی طرح موٹے سیاہ بال تھے۔اس نے آ کر عرض کی کہ ہم سب غریب ہو گئے ہیں۔پیغمبر خدا ﷺ نے فرمایا کہ تو ہی سراقہ بن مالک بن جُعْشُم ہے جس کے ہاتھ پر میں نے قیصر و کسریٰ کے خزانے کے کڑے دیکھے ہیں۔میں تو یہ بات پاس کھڑا دیکھ رہا ہوں اور کہا کہ تم جائو وہ غریب چلا گیا اور خدا جانتا ہے کہ وہ اس وقت بھوکا ہی سویا ہو گا۔رسول اللہ کا زمانہ گزر گیا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ کا زمانہ گزر گیا۔حضر ت عمر کے وقت میں کڑے ُلوٹ(مال غنیمت) میں آئے۔بہت جگمگاتے تھے۔حضرت عمر نے فرمایا کہ سراقہ بن مالک بن جُعْشُم کو بلائو اور کڑے پہنائو۔اُس نے کہا کہ سونے کے کڑے مردوں کو حرام ہیں۔حضرت عمر نے فرمایا ’’ کَافِیْ بِکَ ‘‘ کا معاملہ بھول گیا ہے۔پس کڑے پہنا دئیے لیکن جس وقت یہ کہا گیا تھا اس وقت کون جانتا تھا کہ ایسا ہو گا۔