ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 166 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 166

سیدوں کی نسل لے لو۔افریقہ ، عرب ، شام وغیرہ میں گائوں کے گائوں ان کی کروڑوںکی کروڑوں اولاد ہوئی ہے لیکن جب حضرت خاتون جنت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لئے حضرت رسول کریم ﷺ نے کہا کہ یا الٰہی اس میں برکت دے۔تو اس وقت تو یہ لفظ اتنے ہی تھے کہ یا خدا اس میں برکت دے۔کون اس کی سمائی کو سمجھ سکتا تھا۔یہ مثال بھی ذرا مذہبی رنگ اپنے اندر رکھتی ہے۔پھر بڑ کا دانہ ہے۔ہندو امراء کے مرنے پر یادگار میں لگایا جاتا ہے۔میں نے دیکھا ہے پہلے بالکل چھوٹی لو نکلتی ہے۔اس کو پانی کے نزدیک عمدہ جگہ پر لگاتے ہیں۔پھر میں نے دیکھا ہے کہ ایسے درخت ان سے بن گئے ہیں جن کے سائے میں دو ہزار گھوڑے آ جائیں لیکن بیج اس کا خشخاش کے دانے جتنا ہوتا ہے اس وقت کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ کیا ہو گا۔پھر نسل آدم میں غور کریں۔شروع میں کون جانتا تھا کہ تعداد میں اس قدر ہو جائیں گے۔بابربادشاہ کیا تھا جس وقت ہندوستان میں آیا ہے۔پھر اس کا کتنا عروج تھا۔اتنا عروج ہوا کہ کوئی انتہا نہ رہی لیکن پشتوں کے بعد ہوا۔اس وقت انگریز بھی آئے اور کپڑے اور لوہے اور کانچ کی چیزیں لائے اور اُس کے عوض کچھ روپیہ مل گیا۔کیا اس وقت بادشاہ کے وہم و گمان میں بھی تھا۔کہ یہ کبھی بادشاہ ہو جائیں گے اور اس کی گدی سنبھالیں گے۔اور نہ ہی انگریزوں کو ہی ایسا خیال تھا۔صرف غریب سمجھ کر کچھ دے دیا۔ایک مدت کے بعد عالمگیر کو ان کا کچھ خطرہ محسوس ہوا تو اُس نے صرف یہی کہا کہ بر آیند بر آیند۔اگر ان کو خیال ہوتا کہ یہ بادشاہ بننے والے ہیں تو کوئی بڑی تدبیر کرتا۔آج وہی سلطنت ہے جو کہتی ہے کہ ہماری سلطنت پر سورج غروب نہیں ہوتا۔پھر اس پیشگوئی کو دیکھیں جو تورات میں ہے کہ انگریز اور روسی زور پکڑیں گے۔اس وقت کوئی یہ بات خیال میں بھی لا سکتا تھا۔ایک میرے دوست ولایت گئے۔ا نہوں نے کہا کہ تمہارے لئے کیا تحفہ لائوں؟ میں نے کہا کہ پرانے سے پرانے میوزیم میں جانا اور وہاں سے جو پرانی سے پرانی چیز جو ہو اس کی فوٹو میرے لئے لانا۔وہ گئے تو اتفاق سے پرانی سے پرانی چیز یاجوج ماجوج کی تصویر تھی۔وہ فوٹو وہاں کی میوزیم کی کتاب میں تھی۔انہوں نے کتاب دے دی جو میرے پاس موجود ہے۔ان کی شکل دیکھ