ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 165 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 165

بنا تھا۔پھر نہیں معلوم کان میں سے کب کاٹا گیا۔پھر وہاں سے کروڑہا من چلا <mark>اس</mark> میں ہمارا حصہ تھا۔پھر کچھ بٹالہ میں آیا <mark>اس</mark> میں ہمارا حصہ تھا۔وہ بھی ہزاروں من تھا۔پھر وہاں سے قادیان آیا <mark>اس</mark> میں بھی ہمارا حصہ تھا۔پھر <mark>اس</mark> میں سے ہمارے گھر میں آیا جس میں ہم سب گھر والوں کا حصہ تھا۔<mark>اس</mark> میں سے ہی میرا بھی تھا۔پھر میرے کھانے کے لئے آیا <mark>اس</mark> میں سے <mark>جو</mark> میرا بھی حصہ تھا میں نے کھایا لیکن <mark>اس</mark> میں سے بھی میرا جزو بدن بہت تھوڑا بنتا ہے۔کچھ پیشاب کچھ پاخانے میں اور کچھ پسینے میں نکل گیا۔سب کچھ تدریجاً ہوا۔پھر <mark>اس</mark> میں سے میرے نطفے کے حصے بھی کچھ آیا جس سے کسی اور جسم کا وہ جزو بدن بن گیا۔کان میں کون کہہ سکتا تھا کہ <mark>اس</mark> کا انجام کیا ہو گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (الروم:۱۲)۔خو ن ایک وقت جزو بنتا ہے پھر فوراً ہی واپس چلا جاتا ہے۔پس خدائی کارخانوں میں خدا ہی اصل بات کو جانتا ہے یا <mark>جو</mark> کچھ انبیاء کو سکھایا ہے وہ جانتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک وقت دعا کی(البقرۃ :۱۳۰)۔جب دعا مانگی گئی <mark>اس</mark> وقت حضرت <mark>اس</mark>ماعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام چند سال کے ہوں گے۔کون جانتا تھا کہ یہ کیا ہوں گے۔پھر جب سوتیلی والدہ نے نکلوا دیا اور وادی غیرذی زرع میں چلے گئے تو <mark>اس</mark> وقت ماں کو بھی یقین ہو گیا ہو گا کہ اب یہ مر جائے گا مگر اللہ کا وعدہ تھا کہ میں <mark>اس</mark> کی اولاد اتنی کروں گا کہ ریت کے ذروں کی طرح گنی نہ جا سکے گی۔میرے خیال میں ابراہیم علیہ السلام بھی <mark>اس</mark> وقت نہ جانتے ہوں گے کہ یہ کس طرح واقعہ ہو گا مگر ان کا <mark>ایمان</mark> ضرو ر تھا کہ ایسا ہو گا۔پھر دیکھو ہوا اور کس طرح سے ہوا۔اللہ کا وعدہ سچا نکلا اور کس طرح سے پیغمبر خدا ﷺ آپ کی نسل سے عظیم الشان بادشاہ خاتم النبیین بنا کر بھیجے گئے۔یہ مذہبی مثال ہے۔پھر مو<mark>جو</mark>دہ انسانوں کے شجرہ کو ذرا اوپر کی طرف لے جائو تو ایک ایک انسان سے ہزارہا نکلے ہوئے نظر آئیں گے۔کیا <mark>اس</mark> وقت <mark>اس</mark> انسان کو خیال بھی ہوتا ہے کہ وہ اتنے ہو جائیں گے مثلاً