ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 164
۱۳؍ستمبر ۱۹۱۲ء نوجوان واعظ چند نوجوان دوستوں کا خط آیا کہ ہم اپنے فرصت کے دن وعظ کے واسطے باہر جاتے ہیں ہمارے وعظ کا مضمون کیا ہونا چاہیے؟ فرمایا۔لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کا وعظ کرو یہ اصل ہے اس پر لوگوں کا ایمان قائم ہونا ضروری ہے اور لوگوں کو سمجھائیں عملی نمونہ اسلام کا اختیار کریں قوم کے سچے خیر خواہ ہوں۔نفاق کو چھوڑ دیں نمازوں کے پابند ہوں نیک نمونہ بنیں آپس میں لڑائیاں نہ کریں اور وفات مسیح کا مسئلہ لوگوں کو سمجھائیں اور مولویوں سے جو شرارت کرنا چاہتے ہیں چوکس رہیں۔۱۳؍ستمبر ۱۹۱۲ء خائن منافق ایک شخص کے متعلق خبر آئی کہ اُس نے اپنے آقا کے روپیہ میں سے جو اس کے امانت تھا قرضہ دے دیا ہے اور اب واپس ملتا نہیں۔مشکلات میں اور قابل امداد ہے۔فرمایا۔اُس نے امانت میں خیانت کی اور خدا کی نافرمانی کی۔منافق ہے ایسا آدمی میرا کیا لگتا ہے کہ میں اس کی کوئی امداد کروں۔مجھ سے وہ کسی قسم کی اُمید نہ رکھے۔۵؎ حضرت مسیح موعود ؑ کی نسبت تا حال وقوع پذیر نہ ہونے والی پیشگوئیاں ایک شخص کا سوال اور حضرت کا جواب سوال۔حضرت مسیح موعود مغفور مرحوم کی نسبت جو پیشگوئیاں ہیں وہ تو بہت ہیں لیکن ابھی اُن کا ظہور نہیں ہوا اس کی نسبت کچھ فرماویں۔فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے سب کام تدریجاً ہوتے ہیں۔عناصر سے غلہ کس طرح آہستہ آہستہ بنتا ہے۔نمک کروڑہا سال سے بنا پڑا ہے لیکن آج ہمارے کھانے میں آتا ہے۔یہ نمک کتنا عرصہ ہوا کہ