ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 159
مکتوب نمبر ۱ پیارے بچہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ دنیا روزے چند عاقبت کار با خداوند۔دوسرے سیپارے میں (البقرۃ : ۱۷۸) سے دوسرا پارہ شروع ہوتا ہے اس کو پڑھو۔اس میں متقی کی صفتیں مندرج ہیں اور ادھر الم کا پہلا رکوع دیکھو اس میں (البقرۃ :۳) آیا ہے۔پھر بدوں تقویٰ ہدایت ہی نہیں۔مولوی صادق صاحب تو بھول جاتے ہیں خط تک نہیں لکھتے۔ہاں تمہیں سیالکوٹ بلاتا مگر وہاں رہنے کا ارادہ نہ تھا۔گلگت کے لئے اپنی کوشش رکھنا اور ضرور رکھنا۔حضرت بھی آجکل فیروزپور میں ہیں جب تشریف لائیں گے۔آخری زمانہ کے معنے مفصل آپ کو لکھوں گا۔میاں غلام محمد کو سلام علیکم۔آپ فیروز الدین کو بے ناغہ بقدر امکان سبق دیا کریں اور حساب کا بھی انتظام کر دیں۔اس کی نوکری کا بھی مجھے فکر ہے۔فقط ۳؎ احسن اللطائف سب حمد و ثناء اس لطیف وخبیر کے لئے ہے جس نے اپنے لطف و کرم سے اپنے بندوں کی راہنمائی کے واسطے اپنا پاک کلام نازل کیا اور اس مقدس کلام کے طفیل اپنے محبّین کے واسطے روح پاک کے نزول کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے جاری رکھا۔اللہ کے پیارے جب اپنے محبوب کی محبت میں اپنی ہستی کو محو کر دیتے ہیں تو خود محبوب بن جاتے ہیں او ر ان کے افعال اور اقوال اور اعمال کلام پاک کی ایک چلتی پھرتی زندہ تفسیر ہوتے ہیں۔کیسے ہی بدبخت ہیں وہ جنہوں نے اس حکمت کو شناخت نہ کیا اور احادیث و آثار کی سچی راہنمائی کا انکار کر کے حقیقی علم و معرفت کے ایک بڑے ذخیرے سے اپنے آپ کو محروم کر دیا۔اللہ تعالیٰ جلّ شانہٗ کے برگزیدہ رسول اور اس رسول علیہ الصلوۃ والسلام کے برگزیدہ اصحاب کے حالات بجائے خود جس قدر ہدایت و رحمت کا موجب ہمارے لئے ہیں سو ہیں مگر ان کا نمونہ ظلّی رنگ میں ہم خود اس زمانہ میں بھی دیکھ رہے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح اپنے بیان تفسیر میں بہت سے