ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 129
اس وقت کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا۔نہ اُس روز کسی کی سفارش قبول ہو گی اور نہ کسی کو جرمانہ لے کر بغیر سزا کے چھوڑا جاوے گااور نہ وہاں پر کوئی کسی کی مدد کر سکے گا۔آیت ۲۔۔یوم سے مطلب قیامت کا دن بھی ہے اور وہ دن بھی ہے جو خدا نے کفار کو جنگ بدر میں قیامت کے ثبوت میں دکھلایا۔کیونکہ مومن اور مسلمان تو جزا و سزاکو اپنے عقیدہ کے موافق یقین جانتے ہیں۔پر کفار کی تسلی بھی توضروری تھی کہ دیکھو جس طرح اس دنیا میں جب تم کو خدا کے عقاب سے کوئی نہ بچا سکا تو قیامت میں تم کو کون بچا سکتا ہے اور یہود کے لئے تو وہ دن ہے جب جلا وطن ہوئے اور قریظہ قتل ہوئے۔آیت ۳۔پھر بنی اسرائیل کو اپنے احسانات یاد دلا کر فرماتا ہے کہ دیکھو اس زمانہ کو یاد کرو جبکہ فرعونی تمہاری لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے اور تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے۔پھر دیکھو ہم نے تم کو ان سے نجات دلائی اور تمہاری آنکھوں کے سامنے ان ظالموں کو غرق کیا۔کیا یہ کچھ تھوڑا سا احسان تھا۔پھر جب ہم نے موسیٰ کو کتاب کا وعدہ دیا اور وہ جیسا کہ عبادت الٰہی کے لئے تنہائی کے لئے نہایت مناسب موقع ہوتا ہے کوہ طور پر تم سے علیحدہ چلا آیا تو تم نے اس کے بعد میں خدا کے احسانات کو بھلا دیا اور ایک بچھڑے کو اپنا معبود بنا کر اپنی جان پر ظلم کیا مگر دیکھو ہمارے رحم کو کہ ہم نے تمہاری اس نہایت عظیم الشان خطا کو بھی معاف کر دیا اور یہ اس لئے تاکہ تم شکر کرو۔آیت ۵۔عجل۔بچھڑا۔اے بنی اسرائیل ہم نے تو تم کو تمام جہانوں پر فضیلت دی تھی پر تمہاری عقل کو کیا ہو گیا تھا کہ تم نے ایک بچھڑے کو جو تمہارا خادم ہونے کے سوا مخدوم ہونے کی بھی حیثیت نہیں رکھتا تھا معبود بنالیا۔آیت۸۔پھر ہم نے کہا۔اُقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ یعنی ان لوگوں کو قتل کرو۔جنہوں نے بت پرستی کی۔۷؎ ۔( خالق کا مرادف نہیں ) مختلف اشیاء میں سے خلاصہ در خلاصہ نکالنے والا۔انسان کو ممتاز کرنے اور مصیبت سے نکالنے والا۔اسی کی طرف قرآن مجید میں اشارہ۔