ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 12
فرمانبرداری میں قدم مارنا جزوطبیعت ہوجاتا ہے۔پہلی حد مکلف ہونے کی ۱۸ سال کی عمر سے ہے۔حدیث شریف میں سات خصلتیں بیان ہوئی ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے عرش کا سایہ اس دن ملے گا جس دن کوئی سایہ نہ ہوگا۔(۱)امام عادل۔(۲)جوان صالح جس نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں عمر گزاردی۔(۳)وہ شخص جس کا قلب مسجد میں انتظار میں معلق ہو۔(۴)دو مرد باہم محبت کیے تو اللہ تعالیٰ کے لیے، اکٹھے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کے لیے اور جدا ہوئے تو اللہ تعالیٰ کے لیے۔(۵)وہ مرد کہ بلایا اس کو ایسی عورت نے جو منصب اور جلال رکھتی ہے۔پس کہا اس نے کہ میں اللہ سے ڈرتاہوں۔(۶)اور وہ مرد کہ صدقہ کیا اللہ کے راہ میں ایسا مخفی کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی۔(۷) وہ شخص کہ ذکر کیا اللہ تعالیٰ کا تخلیہ میں۔پس خوف خدا سے جاری ہوئی اس کی آنکھیں۔دعا اور استخارہ کرنے کی تحریک فرمایا۔انسان بالطبع سکھ اور آرام کی تلاش میں لگا رہتا ہے۔کوئی نوکری کرتا ہے تو اپنے آرام کو نوکری کے متعلق سوچ لیتا ہے۔نکاح کرتا ہے تو نکاح میں بھی سکھ وآرام کو سوچ لیتا ہے۔لڑکے مڈل تک ہی تعلیم میں جب پہنچتے ہیں تو دل میں کیا کیا خیال کرلیتے ہیں کہ ہم کیا کیا ہوجائیں گے۔کوئی تو یوں سمجھ لیتا ہے کہ میں ڈپٹی کمشنر ہوجاؤں گا۔یہ سب خیالی خوشیاں ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے، معلوم نہیں کہ کس کام میں ہمیں سکھ ملے گا اور کس کام میں دکھ۔پس چاہیے کہ کثرت سے دعاؤں اور استخارات کو کیا کرو۔ملازمت کرو تو کثرت سے استخارات پہلے کرلو۔تجارت کرو تو پہلے استخارات کرلو۔حقیقی سکھ اور دکھ کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔درون سینہ کا علم اللہ کو ہے فرمایا۔بعض آدمی بظاہر دیکھنے میں بڑا ہی نیک معلوم ہوتا ہے مگر اس کے درون سینہ کا علم اللہ ہی کو ہے کہ کیسا ہے۔جتنے تم یہاں بیٹھے ہو سب کا حال مستتر ہے۔معلوم نہیں کہ کون کیسا نکلے گا اور کون کیسا؟ میں تم کو قرآن شریف سناتا ہوں۔میرے دل کی حالت کیسی ہے کسی کو اس کی کیا خبر؟