ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 111 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 111

غضب الٰہی میں چلتے تو تھے اب رحمت الٰہی تو چلنے بھی نہیں دیتی۔یہی حال منافق کا ہے۔منافق جہاد میں جانے سے ڈرتا ہے کہ کہیں موت نہ آجائے۔بعض لوگ اپنی ملازمت پر معقول تنخواہ پاتے ہیں لیکن وہ عہدہ ایسا ہوتا ہے کہ وہاں رشوت لے سکتے ہیں ساتھ والوں کو رشوت لیتے ہوئے دیکھ کر رہ نہیں سکتے۔آخر اس بدی میں گرفتار ہو جاتے ہیں یہ عملی منافق ہیں۔ایسے لوگ اپنے آپ کو پاک قرار دیتے ہیں اور دلائل دینے لگتے ہیں۔ایسوں کے متعلق فرمایا کہ ان کو تھوڑی بینائی لگی ہے مگر جو لگی ہے وہ بھی کہیں جاتی نہ رہے۔بعض لوگ انگریزوں کی نقل کے سبب چھری کانٹے سے کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آنحضرت ؐ نے ایک دفعہ چھری سے کھایا تھا یا پتلون کے سبب کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آنحضرت ؐ نے ایسا کیا تھا۔یہ منافق ہیں کیونکہ دین کی باتیں جب ان کو سنائی جاتی ہیں تو ٹال دیتے ہیں اور ان پر عمل نہیں کرتے۔صرف اپنے نفسانی مطالب کے مسائل مانتے ہیں باقی کے متعلق کہتے ہیں کہ مشکلات ہیں عمل نہیں ہو سکتا ہم کیا کریں۔منافق کا دل کمزور ہوتا ہے۔نہ اس میں قوت فیصلہ اور نہ تاب مقابلہ۔اسی واسطے فرمایا کہ تم فیصلہ تو کر نہیں سکتے کہ حق بات کون سی ہے اور یہاں مسائل دن بدن بڑھیں گے۔سارا قرآن شریف نازل ہو گا۔تمہارا مرض بھی ساتھ ہی ساتھ بڑھتا جائے گا اور مسلمانوں کی تعداد بڑھتی رہے گی۔۔یا تو دعا کے رنگ میں ہے یا امر واقعہ ہے کہ ایسا ہونے والا ہے۔رکوع سوم آیت۱۔۔اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد کرنے سے تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔آیت۲۔۔آسمان کو جہاں دیکھو گول ہی نظر آتا ہے۔جیسے ڈیرہ اور خیمہ۔نِدّ۔مدِّ مقابل۔نہ خدا کا کوئی شریک ہے نہ اس کا کوئی مدِّ مقابل ہے۔آیت۵۔۔یہ وہی چیز ہے جس کا ہم کو پہلے سے وعدہ دیا گیا تھا۔آیت۶۔۔نہیں رکتا۔