ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 110
یہ توفیق نہیں ہوتی کہ اپنے مذہب کی اصلاح کر لیں۔ان کی تجارت نے ان کو یہ فائدہ نہ دیا کہ وہ راہ پانے والے ہو جاتے۔ہرایک ملک سے وہاں کی صنعت کا نمونہ لے جاتے ہیں۔چکیاں، جوتیاں، لوہاروں کی چیزیں، ترکھانوں کی چیزیں، کشیدہ، برتن۔غرض ہر شے کا نمونہ ہر ملک سے لیتے ہیں اور اس کی نقل کرتے ہیں بلکہ اس سے بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں مگر اتنی عقل نہیں اور نہ توفیق ملتی ہے کہ اور مذاہب میں سے اچھے مذہب کو قبول کریں اور اُس سے فائدہ اُٹھائیں۔آیت ۱۲۔۔دین کے کام میں مشکلات ہوتے ہیں اور یہ مشکلات منافقوں کی منافقت کو ظاہر کر دیتے ہیں۔منافقوں کو جب لڑائی کا حکم ہوتا تو عذر کر دیتے۔یہاں ہم نے ایک شخص کو جو مہاجر ہونے کا دعویٰ کرتاتھا ایک نصیحت کی کہ تم اپنی محنت سے کچھ اپنے لئے کما لیا کرو سُست بیٹھنا اچھا نہیں۔تو بہت خفا ہو کر بولا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں ٹوکری اُٹھائوں یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ایسا ہی ایک اور شخص کو نصیحت کی کہ کچھ ملازمت یہاں کر لے جس سے گزارہ چل جائے اور کسی سے کچھ مانگنا نہ پڑے۔تو بولا کیا میں محمد علی کو اپنا بادشاہ بنا لوں۔یہ سب فضول تکبر کے کلمات ہیں۔بعض منافق ایسے ہوتے ہیں کہ کچھ حصہ شریعت کو مانتے ہیں باقی پر عمل کرنے سے ڈرتے ہیں۔جس حصے میں شامل ہوتا ہے اس کی برسا ت رحمت اُس پر پڑتی ہے مگر بعض باتوں کو برداشت نہیں کر سکتا کیونکہ بارش میں اگر چہ بڑی بڑی رحمتیں ہیں مگر ابتلاء بھی ہیں۔مثلاً رات کا وقت ہو اندھیرا ہو۔بادلوں کے سبب چاند اور ستارے بھی نظر نہ آویں۔ایسی سخت تاریکی پھر گرج اور کڑک۔کس قدر مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ایک دفعہ ہم کشمیر سے آ رہے تھے۔ٹانگہ پر سوار تھے۔راستہ میں ایک جگہ ہوا کی بالکل بندش کے سبب بہت تکلیف تھی۔ٹانگہ والا بھی کہتا تھا کہ غضب ہے۔تھوڑی دیر میں خدا تعالیٰ نے بادل بھیجے خوب بارش ہوئی۔سڑک پر پانی ہو گیا جس سے ٹانگے کو چلنے میں دقت ہوئی۔ٹانگے والا بولا