ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 7 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 7

ہونے کا فخر پاگئے۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی طفیل یہودیوں میں بھی اسلام آیا اور صرف اڑھائی قومیں رہ گئیں جو اسلام سے باہر ہیں۔جس کا نمونہ کچھ لاہور میں یہودی کنجریوں کے رنگ میں موجود ہے۔اس طرح سے مسلمانوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک انفاس کے ذریعہ سے بڑی مخلوق باخدا اور مقرب الٰہی بنی اور برابر تین سو برس تک اسی طرح ہوتی رہی۔پھر ہر صدی کے مجدد کے زمانہ میں سچائی کے قبول کرنے کے ذریعہ سے نئی نئی نسل مقرب الٰہی بنتی رہی۔دیکھو حضرت شاہ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور امام باقر جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ذریعہ ابوبکرؓ وعمرؓ تو مقرب نہیں بنے تھے بلکہ ان کے زمانہ میں ان کے زمانہ کی موجودہ نسل ان کی پاک تعلیمات کے نیچے آکر باخدا اور مقرب بنی۔پھر خواجہ معین الدین چشتی ؒ، شیخ شہاب الدین سہروردی، خواجہ نقشبند اور امام ربّانی الف ثانی کے ہاتھ بڑی بڑی مخلوق اور ایسی مخلوق جو کہ اپنی انسانی حالت سے بھی گر چکی تھی ان میں سے ہزاروں ہزار انسان باخدا اور مقرب بارگاہ بنے۔پھر ان کے انتقال ہوجانے پر اور کئی اولیاء دنیا میں پیدا ہوئے جن کے ذریعہ سے خدا کی شان ربوبیت نے پھر ہزاروں لوگوں کو ادنیٰ اور گری ہوئی سفلی زندگی سے نکال کر اعلیٰ پایہ کا انسان بنا دیا۔اس زمانہ موجودہ میں ہمارے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں لوگ کس قدر بدعات، شرک اور کفر میں مبتلا تھے۔حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ اس پُر آشوب زمانہ میں لوگوں کا صرف اس امر کا اقرار کرنا کہ میں احمد کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں یہ بھی زمانہ کی حالت کے لحاظ سے بڑی بھاری اور پاک تبدیلی ہے۔یہ خدا کی ربوبیت ہے کہ ایک ایسی جماعت باخدا انسانوں کی پیدا ہوگئی جو کم از کم اللہ کے حضور اتنا تواقرار کرتے ہیں کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کریں گے۔دین کو دنیا پر مقدم کرانے والے ہی حضرت آدمؑ تھے، حضرت نوحؑ تھے، حضرت ابراہیمؑ تھے، حضرت موسیٰ ؑتھے، حضرت عیسی ؑ تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تمام خلفاء تابعین اور تبع تابعین تمام پاک نفس اور خدا کی طرف ہدایت لانے والوں کا یہی ایک اصول تھا۔یہ ایک بیج تھا سب زمانوں میں یہی بویا گیا تھا۔غرض اگر یہ لوگ دنیا میں نہ آئے ہوتے تو یاد رکھو کہ انسان انسان ہی نہ ہوتا بلکہ حیوان اور حیوان سے بھی بد تر ہوجاتا۔