ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 71
کہ تم ہمارے لئے دُعا کرو کہ ہم کو آپ سے مانگنے کی ضرورت نہ پڑے۔اگر ہم چندہ کی کوئی تحریک کرتے ہیں تو پھر دوبارہ ہم قسم کرتے ہیں کہ ہم یا ہماری صدرانجمن اور اس کے ممبر جن کا ذکر کیا گیا ہے دھوکا سے کوئی نہیں لیتے نہ دھوکا دیتے ہیں نہ ضرورت ہے۔نورالدین تتمہ مضمون مضمون بالا کے متعلق بعض دوسرے اعتراضات کا جواب بھی حضرت خلیفۃ المسیح نے دینا مناسب سمجھا ہے جو کسی نہ کسی ذریعہ سے آپ کے پاس پہنچائے گئے۔اوّل۔تعلیم الاسلام نام سکول کا غلط ہے ہائی سکول چاہیے؟ الجواب۔یہ نام تو خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رکھا تھا اور اس پہلے اشتہار میں جو مدرسہ کے لئے شائع ہوا یہی نام لکھا ہوا ہے اور انگریزی تعلیم کے لئے یہ مدرسہ کھولا گیا تھا۔پھر اعتراض کیوں ہے؟ علاوہ بریں کل دنیا کے ہائی سکولوں میں پانچ وقت نماز کے لئے بچوں کو کوئی آفیسر نماز باجماعت کے لئے نہیں لے جاتا۔مگر یہاں بالالتزام لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہُ کی تعمیل اور تعلیم اسلام کی تکمیل کے لئے ایسا کیا جاتا ہے۔روزوں کے ایام میں حتی الوسع روزہ رکھنے کی ہدایت اور عمل کیا جاتا ہے۔اس سے بڑھ کر یہ کہ آج ایسی ایک بی بی میرے سامنے آئی جس کی بابت میرا خیال تھا کہ وہ عربی کا ایک لفظ نہیں جانتی مگر دوسری نے کہا کہ اس کے خاوند نے تین پارہ تک قرآن مجید کا ترجمہ اس کو پڑھا دیا ہے۔جب پوچھا اس نے کہاں سے پڑھا۔تو جواب ملا کہ ہائی سکول کی جماعت میں۔اب بتاؤ یہ تعلیم الاسلام نہیں تو کیا ہے؟ دوم۔اب تک چندہ سے کیا فائدہ ہوا؟ الجواب۔یہ اعتراض تو حضرت مرزا صاحب پر پڑتا ہے جنہوں نے چندہ کی طرف توجہ دلائی۔اس لئے کسی احمدی کی طرف سے نہیں ہوسکتا ہمارا مخالف یا مرتد کر سکتا ہے۔مخالف کو جواب دیتے ہیں اگر کوئی مرتد ہو تو اس کے لئے دوسرا وقت رکھتے ہیں۔چندہ سے قوم بنی ہے اور قوم بنانے کے بھید کو وہ