ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 67
ضیاء الدین، محمد علی ہیں جو سکول سے نکل کر کالجوں میں پڑھتے ہیں۔ہاں یہ بھی ممکن ہے کہ بعض شریر النفس جن کو پہلے ہی کسی ایسی راہ پر چلنے کا اتفاق ہوا جس سے ان کی طبیعتیں روبہ اصلاح نہ ہوسکیں۔پر جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے ایسے افراد کا ہونا ضروری ہے۔پس مدرسہ کا چندہ یقیناً دھوکا کے طور پر نہیں بلکہ یقیناً ایک ہائی سکول کا چندہ ہے۔تیسرے مد زکوٰۃ ہے۔باایں کہ زکوٰۃ کا مصرف قرآن میں بہت ہی مفصل موجود ہے مگر پھر بھی قاضی امیر حسین ،مولوی سرور شاہ اور سید محمد احسن سے باوجود عدم ضرورت مشورہ کرلیتا ہوں۔صرف مؤلفۃ القلوب کی مد جس کو ہمارے فقہا نے غیر ضروری سمجھا تھا۔میں اس کو حضرت صاحب کے عہد میں بھی، اس کو ضروری سمجھتا تھا اور اب بھی اس کو ضروری سمجھتا ہوں اور اس میں بھی زکوٰۃ کو لگا لیتا ہوں۔اور چونکہ ہماری جماعت ضعفاء کی ہے اس واسطے اوّل تو زکوٰۃ کے دینے والے ہی کم ہیں۔پھر جو دینے والے ہیں ان کو اپنے اقارب بھی مدِّنظر ہیں۔پھر اس قحط سالی اور بیماریوں نے اور بھی اس مدکو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔چوتھا چندہ وہ ہے جو بطور نذر کے لوگ میرے ہاتھ میں دیتے ہیں۔چونکہ اس وقت جب یہ لوگ دیتے ہیں ایسا موقع ہوتا ہے کہ تفصیل سے پوچھا نہیں جاتا۔اس لئے تمام ایسے نذرانہ کے چندوں کو اپنے علم صحیح اور مضبوط تجربہ سے مولوی محمد علی کو امین سمجھ کر اور محتاط یقین کرکے ایک پیسہ سے روپیوں، نوٹوں، پونڈوں تک ان کے سپرد کردیتا ہوں۔ہاں ایسی نذریں جن میں بطور نظیر کے میں دو چیزوں کا ذکر کرتا ہوں کہ شیخ رحمت اللہ نے مجھے کچھ گرم اور لٹھے کے کپڑے ایک بار نہیں دو بار بھیج دئیے اور ایک میرے پنجابی بہت ہی پرانے مخلص دوست نے مدراس سے ایک گرم کوٹ بھیج دیا یا ایک میرے سکھ دوست نے کشمیر سے گرم پٹی روانہ کردی۔اس کو میں خدا تعالیٰ کا فضل اور رحم یقین کرکے آپ لے لیتا ہوں۔نقدی میں ایسااتفاق بہت ہی کم واقعہ ہوتا ہے اور وہ بھی ایسے لوگوں سے کہ مرزا یعقوب بیگ نے مجھے اور جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے بیوی صاحب نے الحاح سے کہہ دیا کہ یہ