ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 66
ہیں تو ہم سے بدتر کوئی بدنصیب نہیں ہوسکتا۔جو چندے یہاں دئیے جاتے ہیں وہ میرے خیال میں حسب ذیل ہیں۔مدات چندہ اوّل لنگر، اور یہ بہت پرانا چندہ ہے جس کی حقیقت ہمیں اب معلوم ہوئی ہے کہ اس میں بچت کی کوئی گنجائش نہیں۔باایں کہ میرا ذاتی خرچ اس میں نہیں۔دوسرا میگزین، جس کی نسبت حضرت صاحب کا یہ ارشاد تھا کہ دس ہزار میگزین، انگریزی کا پرچہ شائع ہونا چاہیے۔اگر اس کے خرچ کو کوئی دھوکہ باز اور بے ایمانی سمجھتا ہے تو وہ شخص ہوسکتا ہے جو حضرت صاحب کو جو اس پرچہ کے اصل بانی ہیں دھوکاباز اور بے ایمان قرار دے لے۔تیسرا یہاں کا ہائی سکول ، مڈل اور پرائمری ہے۔اس کا محرک نور الدین اور مرزا خدا بخش تھے اور اس میں ہماری نیک نیتی یہ تھی کہ جو لوگ یہاں رہتے ہیں اور جو احباب قادیان سے باہر ہیں انہیں اپنی اولاد کو آخر وقتی ضروریات کے باعث تو سکولوں میں بھیجنا ہی پڑتا ہے اور خرچ کے متحمّل ہوتے ہی ہیں اور سکولوں اور بورڈنگوں کی ناگوار برائیوں میں پھنسنے کا احتمال ہے۔اس لئے اگر وہ لوگ اس سکول میں اپنے بچوں کو بھیج دیں اور وہی خرچ جو ان کو ان سکولوں میں دینا پڑتا ہے یہاں دے دیں تو ان کے بچے بورڈنگوں میں جو امور مضر اخلاق و صحت پیدا ہوتے ہیں ان سے نسبتاً محفوظ رہیں۔حضرت صاحب نے بھی اس کو جائز رکھا۔سکول کا چندہ صرف اسی طرح پر خرچ ہوتا ہے جس طرح سرکاری ہائی سکولوں میں خرچ ہوتا ہے۔سرکاری عہدہ دار اس کے نگران ہیں۔سرکاری رنگ میں مجوزہ کو ڈ یونیورسٹی کے موافق اس کی تعلیم ہے۔اگر کوئی امر زائد ہے تو صرف یہ ہے کہ ان لڑکوں کے ماسٹرخصوصیت سے وہ ہیں جن کو حضرت صاحب بہت ہی پسند کرتے تھے اور میں تو ان کے کاموں کو رشک کا موجب یقین کرتا ہوں۔اس میں شک نہیں کہ یہ انگریزی پڑھاتے ہیں عربی کے مدرس نہیں اور لڑکے نمازوں کے پابند کرائے بھی جاتے ہیں اور وہ میرے درس میں بھی حتی الامکان شامل ہوتے ہیں اور سعادت مند اس سے متمتع بھی ہیں۔کتنے لڑکے ہیں جن کی نسبت میرا یقین ہے کہ انہوں نے پاک تبدیلی اس سکول میں رہ کر کی ہے۔مجھے کوئی حرج نہ ہوگا اگر ان میں سے چند کے نام بھی لے دوں۔مثلاً ماسٹر غلام محمد، فتح محمد