ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 62
کرنا چاہا مگر آپ کی رحیم کریم طبیعت نے اس جوشیلے کو بھی یہ کہا کہ ایسے لوگ ابھی بہت سے آنے والے ہیں۔گویا اس کو سبق دیا گیا کہ تُو اور تیرے جانشین ہمیشہ مدِّنظر رکھیں کہ ایسی مشکلات کا ہونا بھی مالی تقاسیم کے وقت ضروری ہے۔میری پرورش خدا کرتا ہے میں اس بیان کے بعد یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ میری عمر اس وقت اُمتِ محمدیہ کی معمولی عمروں سے جوساٹھ اور ستّر کے درمیان فرمائی گئی ہیں زیادہ ہے اور مجھ کو جہاں تک مجھے علم ہے ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے بے منتِ خلق محض اپنے فضل سے ہزاروں ہزار نعمتوں سے متمتع فرمایا ہے۔حضرت امام شعرانی نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں الٰہی نعمتوں کے متعلق اس نے بیان کیا ہے مگر مجھ پر اس قدر نعمتیں ہیں کہ میں ان کے بیان میں بھی شرمسار سا رہ جاتا ہوں اور مجھے کامل یقین ہے کہ جس نے میری ہمیشہ ایسی پرورشیں کی ہیں اب میں اس کی جناب میں ان تھوڑے دنوں کے لئے دو بھر نہیں میرے کھانے پینے، پہننے اور مکانوں میں رہنے کا انتظام۔جیسا میں ہمیشہ بیان کرتا رہتا ہوں بے شک ایک اچنبھا راز الٰہی ہے اور اب تو اور بھی اچنبھا ہوگیا ہے۔حضرت صاحب کے وقت بھی مالی معاملات کے متعلق ایک ہمارے دوست نے کسی قسم کا اعتراض کیا تھا اور حضرت صاحب نے اسے اور باقی احباب کو بھی قسم دی تھی کہ آپ لوگ مجھے کچھ نہ دیں۔میں تمہارے اموال کا کوئی محتاج نہیں مگر اس مخلص دوست کی یہ غلطی آخر عفو کے نیچے آگئی۔حضرت صاحب کی زندگی کے بعد ایک سہارنپوری نوجوان نے مجھے لکھا تھا کہ لنگر کی آمدنی بہت زیادہ ہے اور خرچ بہت کم ہے۔مجھے اس کی تحریر پر اس لئے تعجب ہوا تھا کہ نہ اس نے کبھی خود کمایا نہ کبھی اپنی کمائی سے کسی کی خبرگیری کی۔اس سے کیونکر اندازہ لگ سکتا ہے کہ خرچ کیا ہوتے ہیں اور آمدنی کے کیا اصول ہیں۔حضرت صاحب کی زندگی میں اگر وہ ایسا اعتراض کرتا اور مجھ سے پوچھتا تو میں شاید اس وقت جواب نہ دے سکتا۔حالت لنگر کیونکہ لنگر کی آمدنی حضرت صاحب کی ذات سے وابستہ تھی اور اس کا کسی کو علم نہ تھا لیکن جس وقت اس نوجوان نے اعتراض کیا اس وقت لنگر کی آمدنی اور خرچ کامجھے پورا علم تھا اور میں یقین کرتا ہوں کہ لنگر بجائے اس کے کہ اس سے کچھ بچے مقروض ہوجاتا ہے۔لنگر کی آمدنی میں