ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 61 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 61

دنیادار لوگ ان پیشگوئیوں کے کبھی کبھار غلط ہونے سے اپنی پیشگوئیوں کو نہ ترک کرتے ہیں نہ ان کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور یہی ان کے لئے ترقیات کا موجب ہے۔پیشگوئیاں ایسے ہی اہل اللہ بھی خدا تعالیٰ سے اطلاع پاکر پیشگوئیاں کرتے ہیں اور اگر وہ راستباز ہوں اور اگر فی الواقع اہل اللہ ہوں تو ان کی پیشگوئیاں غالباً صحیح ہوتی ہیں مگر ان کی ترقی کے لئے کبھی کبھی ان کی پیشگوئیاں خود ان کی نظر میں یا لوگوں کی نظر میں غلط ہوجاتی ہیں اور یہ ان کی ترقیات کا موجب ہے۔یہ عجائبات ہیں کہ ایک طرف کی پیشگوئیوں کی غلطی دنیاداروں کو اپنے کاموں میں سست نہیں کرتی مگر دوسری طرف کی پیشگوئیوں سے ٹھوکر کھاتے ہیں اور اس ترقی کی حکمت کو نہیں سمجھتے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر کوئی اُسوہ اس حریت اور ترقی اور تنزّل اور مشکلات اور روکوں کا نظر نہیں آتا۔اس لئے ہم کو وہاں ہی سے مثالیں لینی پڑتی ہیں۔آپ کے عہد میں اُحد کا واقعہ اور غزوہ احزاب کا معاملہ اگرچہ ناعاقبت اندیشوں کے لئے آپ کی ترقیات کی روک تھی مگر اُحد کا ظاہری فاتح خالد بن ولید اُحد کے بعد ہی معاً مسلمان ہوگیا اور غزوہ احزاب میں تو خود حضرت نبی کریمؐ نے فرمایا کہ اب ہم مکّہ والوں اور مخالفوں پر چڑھائی کریں گے اور وہ ہم پر چڑھ کر کبھی نہیں آئیں گے۔آپ نے جب فتح مکّہ کے بعد اپنے فتوحات کو تقسیم فرمایا تو اس میں سے بہت بڑا حِصّہ مؤلّفۃ القلوب کو عطا کیا مگر انصار کے جلدباز نوجوانوں نے جب کہا کہ ہماری تلواریں دشمن کے خون کو ٹپکاتی ہیں اور فتوحات کا مال غیروں کو دیا جاتا ہے۔جس پر آپ نے انصار کو بہت بڑا وعظ کیا اور اس بات کا خمیازہ انصار کو کچھ ایسا اٹھانا پڑا کہ وہ ہمیشہ فتوحات کے حِصّہ لینے میں اس دنیا میں پیچھے ہی رہے اور واقعہ مجھے یاد آیا ہے کہ کسی موقع پر آپ نے کچھ اموال کو تقسیم فرمایا تو ایک شخص نے جس کی ظاہری شکل کا بھی تذکرہ احادیث میں ہے یہ کہا کہ ھٰذِہِ الْقِسْمَۃُ مَا اُرِیْدَ بِہٖ وَجْہُ اللّٰہِ (بخاری کتاب خمس باب ماکان نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوتی المؤلفۃ القلوبھم وغیرھم) کیا معنی؟ آپ کی اس تقسیم میں عدل و انصاف اور خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہی کو مدِّنظر نہیں رکھا گیا۔گویا اس کے یہ معنی ہیں کہ (معاذ اللّٰہ)نبی کریم خائن ہیں (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ)بعض پُرجوش طبائع نے اس شخص کو قتل بھی