ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 60
خود اس فرد یا امکان کو جو اپنے یا دوسرے کے لئے مضر ثابت ہوں ضرر سے روکیں یہی جڑ اسلام کی صلح اور جنگ کی مجھے معلوم ہوئی ہے۔مالی یا جانی ضرر کے لئے نماز جیسی چیز کے لئے تیمم اور لیٹ کے نماز پڑھنا اور روزہ بعض حالتوں میں ترک کردینا اور حج کے عذر اور زکوٰۃ کے لئے نصاب اور فقہ کے تمام ابواب کو دیکھا جاوے تو ایسے ہی اصولوں پر مبنی ہیں۔خلاصہ یہ ہوا کہ ہر ایک شخص اپنے اعتقاد اور قول اور اعمال میں بشرطیکہ کسی کے لئے حتی کہ اس کے اپنے لئے بھی مضر نہ ہوں، آزاد ہے۔وَاِلّا آزاد نہیں۔ترقی کا حق دوسری بات جو قبل از مطلب بیان کرنی چاہتا ہوں یہ ہے کہ اس آزادی میں جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ہر ایک شخص بے انتہا ترقی کا حقدار ہے اور اس کے لئے صرف اتنی ہی روک ہوسکتی ہے کہ وہ اپنی ترقیات میں اپنے یا دوسرے کے لئے مضر ثابت نہ ہو۔ہاں بعض حالتوں میں اس کی ترقی کی حدبندی اس قادر و مقتدر کے ماتحت ہوجاتی ہے جس کے عجائبات اور حکمتوں سے یہ ترقی کن خود بھی ناواقف ہے۔وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ مُّحِیْطٌ۔مشکلات تیسری بات ہر ایک ترقی کے ساتھ کچھ مشکلات اور کوئی تنزّل، وقفہ بہت ضروری ہے۔اسی واسطے تمام عالم میں ترقیات کے نظاروں میں روک اور تنزّلات کا نظارہ ہم دیکھتے ہیں اور غالباً اسی لحاظ سے جانور ترقی سے رکے ہوئے ہیں اور انسان کی ترقیات حیرت انگیز ہیں۔مثلاً تمام کارخانہ دنیا کا اس وقت یا پہلے زمانوں میں پیشگوئیوں پر چلتا ہے۔ریل پر جانے والا تار کے ذریعہ یا خط کے ذریعہ پیشگوئی کرتا ہے اور اپنے دوست کو اطلاع دیتا ہے کہ میں فلاں بجے اسٹیشن پر پہنچوں گا یا تمہارے گھر پہنچوں گا اور اس کی پیشگوئیوں پر اس دوست کو موقع لگتا ہے کہ اپنے نوکروں، چاکروں اور گھر والوں کو پیشگوئی کرے کہ فلاں دوست فلاں وقت آج آئے گا۔یہ پیشگوئیاں صحیح ہوتی ہیں مگر بعض وقت کولیژن (collision)یا اور اسباب سے غلطی بھی ہوجاتی ہے۔تمام ملازمت پیشہ اس لئے کام کرتے ہیں کہ ہمیں فلاں تاریخ تنخواہ ملے گی اور غالباً ملتی ہے اور کبھی اس کے خلاف بھی ہوجاتا ہے۔تاجر کی خط و کتابت اور ہُنڈیاں اور زمیندار کے کاروبار بھی ایسے ہی ہیں اور خلاف بھی ہوجاتا ہے لیکن