ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 59
قوم میں وحدت اور اتحاد ۱۰؍جنوری ۱۹۰۹ء کو حضر ت امیر المؤمنین مدّ ظلہ العالی نے خاکسار ایڈیٹرالحکم کو بلا کر مندرجہ ذیل مضمون اشاعت کے لئے لکھوایا اور فرمایا میں چاہتا ہوں کہ یہ کثرت سے شائع ہو۔اس لئے احباب عام طور پر اس کو شائع کریں۔(ایڈیٹر الحکم) آزادی قرآن کریم کو جہاں تک میں نے پڑھا ہے اور غور کیا ہے اللہ تعالیٰ لوگوں کوقرآن میں حریت اور آزادی دیتا ہے جیسے وہ فرماتا ہے۔ (البقرۃ :۲۵۷) ٍ (الغاشیۃ:۲۳)(یونس: ۱۰۰) اور فرماتا ہے۔(الحج :۴۱)اور اسی قسم کی بہت سی آیات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اختلاف آراء کادنیا میں بہت ہی ضروری ہے۔جب جناب الٰہی کا خود منشاء نہ ہو تو دنیا کے مصلحین اس کو کیونکر مٹاسکتے ہیں۔حفظ امن لیکن جیسے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک شخص کو اپنے اعتقاد اور قول اور فعل میں پوری حریت عطا کی ہے۔اسی طرح قرآن کریم سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی ذات یا مال یا عزت یا کسی دوسرے کی ذات و مال اور عزت کا خلاف کرنا چاہے تو ایک حد تک ناصح اور قوم اور اگر کسی کی سلطنت ہو تو وہ سلطنت ہر ایک شخص کو ایسے فعل کے ارتکاب سے روک سکتی ہے اور روکنا ضروری ہے۔قرآن کی آیتیں (النساء :۶)مال پر اور (البقرۃ :۱۹۶) ذات پر اور (المائدۃ :۳۴) سے معلوم ہوتا ہے کہ ناصح اور قوم اور سلطنت ہر ایک بقدر امکان