ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 495 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 495

میں فرق آتا ہے اور نہ تبدیل مکانی کی ضرورت ہے۔پھر خواب کے عجائبات پر نگاہ کرو۔ظاہر ہے کہ نزول کے واسطے جسم کی ضرورت نہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ(الشعراء:۶۳)۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے فرمایا۔(التوبۃ:۴۰)۔پس معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کا ساتھ ہونا اور ہر جگہ موجود ہونا یکساں نہیں ہوتا کسی نہ کسی رنگ کا فرق ضرور ہوتا ہے۔ورنہ ماننا پڑے گا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا اسی قسم سے فرعون کے ساتھ بھی تھا۔معراج النبی ؐ فرمایا۔ہم مانتے ہیں کہ معراج آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کو ہوا۔بیداری بھی تھی اور جسم بھی تھا مگر اس کی کیفیت کیا تھی۔یہ جدا بات ہے۔معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے بلال کو جنت میں اپنے آگے آگے چلتے پایا۔بلال کے پاؤں کی جوتوں کی آہٹ سنی۔یہ قابل غور بات ہے۔بیٹھنے کے مختلف معانی فرمایا۔دیکھو ایک لفظ ہے بیٹھنا۔پھر اس کے کس قدر معانی ہیں۔دیوار بیٹھ گئی۔تخت پر بادشاہ بیٹھا۔کسی کی محبت دل میں بیٹھ گئی۔ساہو کار بیٹھ گیا۔(دیوالہ نکل گیا) کسی کی بات ہمارے دل میں بیٹھ گئی۔ظاہر ہے کہ سب بیٹھنے ایک طرح کے نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ذات چونکہ وراء الوراء اور لَیْسَ کَمِثْل ہے اس لئے اس کا بیٹھنا بھی اور اس کی معیت بھی جدا کیفیت کی ہے۔اللہ تعالیٰ کو کسی پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔خدا تعالیٰ کی ذات پر جس قدر شبہات پیدا ہوتے ہیں وہ اسی وجہ سے ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ذات کو لوگ قیاس کر لیتے ہیں اور کسی نہ کسی چیز سے اس کی تشبیہ دے لیتے ہیں۔اقرار کو پورا کرو فرمایا۔جو سنتے ہیں وہ سنیں اور جن تک آواز نہیں پہنچتی ان کو سنادیں کہ تم کو بیعت کرنے پر کوئی مجبور نہیں کرتا۔کوئی مارتا نہیں کہ ضرور بیعت کرو۔ہم کسی کو بلاتے نہیں کسی پر زور نہیں دیتے۔یہاں بعض عورتیں ہیں جو بیعت میں داخل نہیں حالانکہ ان کے مرد ہیں۔ان عورتوں پر