ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 494
نہر زبیدہ خاتون مکہ معظمہ کا ذکر تھا۔فرمایا کہ نہر زبیدہ خاتون فرات و دجلہ سے نہیں لائی گئی بلکہ بہت سے چشموں کو جمع کر کر نکالی گئی ہے۔اور جبکہ اس کا حساب انجینئروں نے پیش کیا تو اس وقت وہ دجلہ کے محل پر بیٹھی ہوئی تھی۔اس وقت کئی کروڑ کی بر آورد بھی پیش کی گئی تو وہ کاغذات دریا میں پھینک کر کہا کہ جو کام خدا کے لئے ہو اس کا حساب کیا۔فرمایا۔پہلے مسلمان بڑے اولوالعزم تھے اب وہ بات نہیں رہی۔بدؤوں کی مسافر نوازی و صلہ رحمی بدؤوں کی مسافر نوازی و صلہ رحمی پر فرمایا۔چند ہندوستانی راستہ بھٹک کر جنگل میںیکایک ایک قزاق بدوی کے مکان پر چلے گئے۔اس نے دریافت کیاکہ کیسے یہاں پر پہنچ گئے تو سبھوں نے کہا کہ ہم راستہ بھول گئے ہیں۔پھر اس نے پوچھا کہ سچ سچ کہو کہ تمہارے ہاں کچھ پیسے بھی ہیں یا نہیں۔چونکہ وہ سب قلاش ہوگئے تھے سبھوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ ٹکا بھی پاس نہیں۔جب ان کے کہنے پر اسے یقین آگیا تو تب اس نے کہا کہ اچھا یہ جو تربوز کا کھیت ہے اس کو لوٹ لو۔وہ لوگ خوشی خوشی تمام کھیت صاف کرنے لگے اور خوب خوب کھایا۔……… جب وہ اچھی طرح سستا لئے تو دوسرے روز بدوی نے کہا کہ اب چلو میں تم لوگوں کو راستہ پر چھوڑ دیتا ہوں۔چنانچہ اس نے اپنے نئے مہمانوں کو لے کر بڑی بڑی پیچدار گھاٹیاں طے کراتے ہوئے راستہ پر لا کھڑا کردیا۔اور پھر پوچھا کہ سچ کہو تمہارے ہاں کوئی پیسہ وغیرہ تو نہیں۔لہٰذا اس نے اپنے مزید اطمینان کے لئے جامہ تلاشی لی اور کہا کہ اگر تمہارے نزدیک سے کچھ نکلتا تو میں تم سب کو مار ڈالتا۔اور پھر کہنے لگا کہ دیکھو یہ کھیت جو تم نے لوٹ لیا اور اجاڑدیا۔یہ میرے تمام سال کا آذوقہ اور کمائی تھی لیکن تم کو مفلس دیکھ کر میں نے اسے لٹادیا۔اب کہو کہ تم لوگ رکھ کر بھی ہم کو نہیں دیا کرتے تو پھر ہمارا لے لینا ظلم کیسے ہوا۔ہم کبھی ظلم نہیں کرتے مجھے یہی بتلانا مقصود تھا۔سید بشارت احمد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدا تعالیٰ کی معیّت فرمایا۔ہمارا خیال ہمارے دماغ میں بھی ہوتا ہے اور دوسری جگہ بھی چلاجاتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے نزول کو سمجھو۔اس سے نہ تو (الاعراف:۵۵)