ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 489
خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی ایک علامت فرمایا۔جب خدا تعالیٰ کسی پر ناراض ہوتا ہے تو اسے جھوٹ بولنے کی عادت بہت ہوجاتی ہے۔یہ تفریق کیوں؟ فرمایا۔اس ملک میں عورتیں نماز کے وقت سینے پر ہاتھ باندھتی ہیں اور مرد نیچے، معلوم نہیں یہ فرق کس طرح پیدا ہوا۔قرآن شریف اور حدیث میں اس کا کوئی پتہ نہیں چلتا۔قرض سے بچو فرمایا۔قرضدار آدمی جھوٹا ہوجاتا ہے۔وعدہ کرتا ہے تو پورا نہیں کرتا اور بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔عبودیت فرمایا۔ہرحال میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو عبودیت سکھاتا ہے۔مثلاً زبان کو حکم ہے کہ جھوٹ نہ بولے یہ بھی عبودیت ہے۔پھر سچ بولنے کے متعلق فرمایا کہ غیبت نہ کرو گو بات سچی ہی ہو۔پھر فرمایا کہ لنگڑے کو لنگڑا نہ کہو گو وہ ہے اور سچ ہے مگر ایسا کہنے سے بھی منع فرمایا۔ایسا ہی بعض مجاز کے بولنے سے بھی منع فرمایا ہے۔تراویح فرمایا۔رمضان شریف میں تراویح کا پڑھنا ضروری ہے اور باجماعت پڑھنی چاہئیں کیونکہ اب فرضیت کا ڈر نہیں رہا۔تراویح میں محدّثین اور فقہاء کا بڑا اختلاف ہے۔مالکیوں کے ہاں ۳۶رکعت ہیں اور حنفیوں میں بیس (۲۰) رکعت ہیں۔محدّثین میں گیارہ رکعت سے زیادہ ثابت نہیں۔میں خود بھی گیارہ رکعت کو پسند کرتا ہوں لیکن مخالف کسی کا نہیں ہوں۔تجارت سے بہتر فرمایا۔میں نے ایک دفعہ سورۂ جمعہ پر خطبہ پڑھا اور ارادہ یہ کیا کہ اس کو (سورۂ جمعہ کی تفسیر کو) طبع کراکر ایک آنہ فی کاپی کے حساب سے فروخت کریں گے۔اس زمانہ میںکالج بنانے کا خیال تھا اور چندہ کی ضرورت تھی۔خیال ہوا کہ اس کا روپیہ اس چندہ میںلگائیں گے۔جس وقت نماز میں سجدہ میں گیا تو الہام ہوا کہ قُلْ مَا عِنْدَاللّٰہِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّھْوِ وَ مِنَ التِّجَارَۃِ وَاللّٰہُ خَیْرُالرَّازِقِیْنَ۔پہلے ہی میدان صاف ہوا فرمایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پیشتر عرب میں ایک عظیم الشان جنگ ہوئی تھی جس میں بڑے بڑے سرداران قوم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بظاہر